ڈیرہ غازی خان، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے سرحدی قبائل نے دہشت گردوں کے خلاف متحد ہو کر مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقے باجھہ میں ایک جرگہ منعقد ہوا، جس میں عمائدین نے کہا کہ دہشت گردوں نے علاقے میں بھتہ خوری اور اغوا کی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔
جرگے میں فیصلہ کیا گیا کہ باجھہ کے لوگ اپنے علاقے کی حفاظت کریں گے، 50 افراد پر مشتمل ایک لشکر دن کے وقت اور 50 افراد رات کو علاقے کی نگرانی کریں گے۔
عمائدین کا کہنا تھا کہ خوارجی دہشت گردوں کا مقابلہ بھرپور انداز میں کیا جائے گا،واضح رہے کہ باجھہ قبائلی علاقہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی سرحد پر واقع ہے۔
یاد رہے کہ خوارجی دہشت گرد گروپوں کا مقصد پاکستانی حکومت کو غیر اسلامی قرار دینا اور اپنے نظریات کے مطابق ایک ایسا نظام قائم کرنا ہے جو ان کے متشدد تشریحات پر مبنی ہو، ان گروپوں نے پاکستان کے مختلف حصوں میں دہشت گردانہ حملوں، خودکش بم دھماکوں، اور اغوا کی وارداتوں کے ذریعے خوف و ہراس پھیلایا ہے۔
پاکستان کی حکومت اور فوج نے ان دہشت گرد گروپوں کے خلاف متعدد آپریشنز کیے ہیں، جیسے کہ آپریشن ضربِ عضب اور آپریشن رد الفساد، تاکہ ان گروپوں کو ختم کیا جا سکے اور پاکستان میں امن قائم کیا جا سکے۔
