کراچی میں مین ہول سے ملنے والی چار لاشوں کا ابتدائی پوسٹ مارٹم مکمل

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

 مائی کولاچی روڈ کے قریب ریلوے پھاٹک کے پاس واقع ایک مین ہول سے برآمد ہونے والی چاروں لاشوں کا سول اسپتال کراچی میں ابتدائی پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے۔

latest urdu news

پولیس سرجن کے مطابق لاشیں کئی روز پرانی ہیں اور ان پر تشدد کے واضح نشانات پائے گئے ہیں، جس سے یہ واقعہ ایک سنگین اور منظم قتل کا شبہ ظاہر کرتا ہے۔

پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے میڈیا کو بتایا کہ برآمد ہونے والی لاشوں میں ایک لڑکا شامل ہے جس کی عمر تقریباً 13 سے 14 سال کے درمیان ہے۔ اس لڑکے کے سر، چہرے اور گردن پر شدید تشدد کے نشانات موجود ہیں، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اسے بے رحمی سے قتل کیا گیا۔

ڈاکٹر سمعیہ سید کے مطابق دوسری لاش تقریباً 10 سالہ لڑکے کی ہے، جس کا گلا کاٹا گیا ہوا تھا۔ تیسری لاش ایک کم عمر لڑکی کی ہے جس کی عمر اندازاً 14 سے 15 سال بتائی جا رہی ہے، اس کے سر، چہرے اور گردن پر بھی تشدد کے واضح نشانات پائے گئے ہیں۔

کراچی میں خودکش حملے کی سازش ناکام، کم عمر طالبہ کو دہشت گردوں کے چنگل سے بچا لیا گیا

پولیس سرجن کا کہنا ہے کہ چوتھی لاش ایک تقریباً 40 سالہ خاتون کی ہے، جس کے سر پر شدید تشدد کے آثار ملے ہیں۔ مزید تحقیقات کے لیے چاروں لاشوں سے کیمیائی تجزیے کے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں تاکہ موت کی حتمی وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔

پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق تمام افراد کو ممکنہ طور پر نیم بے ہوشی کی حالت میں قتل کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ چاروں لاشوں کو کمبل میں لپیٹ کر ایک سوکھے مین ہول میں پھینکا گیا تھا، جس سے واقعے کی منصوبہ بندی اور سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اس افسوسناک واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے پولیس اور متعلقہ اداروں کو فوری اور شفاف تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ واقعے میں ملوث عناصر کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

راولپنڈی: پولیس کی فائرنگ سے ڈکیت گینگ کے 4 کارندے ہلاک

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter