شہباز شریف اور مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں دونوں رہنماؤں نے امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی پر اطمینان کا اظہار کیا۔
وزیراعظم آفس کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان تقریباً 45 منٹ تک گفتگو جاری رہی، جس میں موجودہ صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے جنگ بندی کے لیے ایرانی قیادت کی حکمت عملی کو سراہا اور اسلام آباد میں امریکا کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرنے پر شکریہ ادا کیا۔
بیان کے مطابق شہباز شریف نے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے لیے نیک خواہشات اور تعظیم کا پیغام بھی بھجوایا۔
دوسری جانب مسعود پزشکیان نے جنگ بندی کے لیے پاکستانی قیادت کے کردار کو سراہتے ہوئے وزیراعظم اور پاکستانی عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق بھی کی کہ ایرانی وفد مذاکرات کے لیے اسلام آباد آئے گا۔
ٹرمپ کا بیان: پاکستانی قیادت سے مشاورت کے بعد ایران سے جنگ بندی پر آمادگی
سفارتی ذرائع کے مطابق متوقع مذاکرات میں ایران کی جانب سے محمد باقر قالیباف اور عباس عراقچی شریک ہوں گے، جبکہ امریکا کی نمائندگی جے ڈی وینس اور اسٹیو وٹکوف کریں گے۔
علاوہ ازیں، وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم نے جنگ بندی کے حوالے سے پاکستان کے کردار پر بریفنگ دیتے ہوئے عاصم منیر اور اسحاق ڈار کی خدمات کو سراہا، جنہوں نے اس سفارتی عمل میں اہم کردار ادا کیا۔
