سہیل آفریدی کا پنجاب اسمبلی میں خیرمقدم ہوا، اس کے باوجود ہنگامہ کیا گیا: رانا ثنا اللہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو پنجاب میں بھی باقاعدہ ویلکم کیا گیا تھا، اگر انہیں خوش آمدید نہ کہنا مقصود ہوتا تو پنجاب اسمبلی کا چیمبر کیوں کھولا جاتا اور انہیں وہاں آنے کی اجازت کیوں دی جاتی۔ ان کا کہنا تھا کہ حقائق کے برعکس بیانیہ بنا کر سیاسی ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

latest urdu news

جیو نیوز کے پروگرام ’’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے دورے سے قبل جن افراد کے نام دیے گئے تھے، صرف انہیں ہی اسمبلی آنے کی اجازت تھی، مگر ان کے ساتھ ایسے لوگ بھی اسمبلی پہنچ گئے جن کے نام فہرست میں شامل نہیں تھے۔ ان کے مطابق انہی غیر مجاز افراد نے پنجاب اسمبلی کے اندر دھینگا مشتی کی، جس سے پورا ماحول خراب ہوا اور سیاسی سرگرمی کو تماشہ بنا دیا گیا۔

رانا ثنا اللہ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ پنجاب حکومت نے سہیل آفریدی کے دورے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ویلکم نہ کرنا ہوتا تو اسمبلی چیمبر کیوں کھولا جاتا اور وزیراعلیٰ کو وہاں آنے کی اجازت کیوں دی جاتی؟ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی جان بوجھ کر تصادم کی سیاست کر رہی ہے تاکہ سیاسی فائدہ حاصل کیا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف اس وقت کسی اسٹریٹ موومنٹ شروع کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ رانا ثنا اللہ کے مطابق پی ٹی آئی 8 فروری کو پہیہ جام ہڑتال کی بات کر رہی ہے، جبکہ قانون میں ایسی ہڑتال کی کوئی اجازت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا خود غیر قانونی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور یہ پورا سفر ہی غیر قانونی نوعیت کا ہے، اس لیے پی ٹی آئی کی کسی تحریک کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں۔

وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کا مزاحمت جاری رکھنے اور جامع امن پالیسی پر زور

رانا ثنا اللہ نے کراچی میں پی ٹی آئی کی سرگرمیوں کے حوالے سے کہا کہ حکومت کو وہاں سیاسی سرگرمیوں پر کوئی اعتراض نہیں، تاہم سندھ حکومت کسی بھی صورت پہیہ جام ہڑتال کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر قانون شکنی کی گئی تو پھر ایف آئی آرز کے اندراج پر شکوے نہیں کرنے چاہئیں۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے سندھ حکومت کی جانب سے خیرمقدم پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ائیرپورٹ سے باغ جناح اور کراچی پریس کلب تک کہیں بھی انہیں نہیں روکا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کو دورے سے متعلق باقاعدہ خط لکھا گیا تھا، مگر اس کے باوجود پنجاب اسمبلی سے 500 میٹر دور اتار دیا گیا اور صرف وزیراعلیٰ کی گاڑی کو جانے دیا گیا۔

شفیع جان کا کہنا تھا کہ اگر تحریک ناکام ہے تو پھر لبرٹی چوک اور دیگر علاقوں کو بند کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ان کے مطابق ن لیگ بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور سیاسی طور پر ختم ہو چکی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کی پہیہ جام ہڑتال مکمل طور پر پرامن ہوگی، جس میں نہ تشدد ہوگا اور نہ ہی زبردستی، جبکہ عوام خود فیصلہ کریں گے کہ کس کا بیانیہ درست ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter