وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت، سولر صارفین کے ریگولیشنز پر فوری نوٹس

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

وزیراعظم شہباز شریف نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے جاری کیے گئے نئے سولر ریگولیشنز پر فوری توجہ دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ سولر صارفین کے معاہدوں کے تحفظ کے لیے نظرثانی اپیل دائر کی جائے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم کی زیر صدارت خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر توانائی عطا تارڑ، اویس لغاری، پرویز ملک، بلال کیانی، محمد علی اور احد چیمہ سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیراعظم نے واضح کیا کہ نئے ریگولیشنز کے باعث سولر صارفین کے مالی مفادات اور نیشنل گرڈ کے مجموعی نظام پر اثر پڑ سکتا ہے، لہٰذا فوری طور پر مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

latest urdu news

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت موجودہ سولر صارفین کے معاہدوں کا مکمل تحفظ یقینی بنائے اور ایسے اقدامات کرے کہ 4 لاکھ 66 ہزار سولر صارفین کا بوجھ 3 کروڑ 76 لاکھ نیشنل گرڈ کے صارفین پر منتقل نہ ہو۔ وزیراعظم نے پاور ڈویژن کو بھی ہدایت کی کہ وہ اس معاملے پر جامع حکمت عملی تیار کرے تاکہ نئے ریگولیشنز کی منفی اثرات سے بچا جا سکے اور سولر صارفین کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔

نیپرا کے نئے ریگولیشنز کے مطابق، پرانے سولر صارفین اپنی بجلی نیشنل گرڈ کو 25 روپے 32 پیسے فی یونٹ کے پرانے نرخوں پر فروخت کرتے رہیں گے۔ تاہم نئے سولر صارفین کے لیے یہ فی یونٹ نرخ 8 روپے 13 پیسے مقرر کیے گئے ہیں، جو سابقہ نرخ سے تقریباً تین گنا کم ہیں۔ اس کے علاوہ، نئے نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے لائسنس کی مدت بھی 7 سال سے کم کر کے 5 سال کر دی گئی ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں نئے صارفین کے لیے سرمایہ کاری کے رجحان میں کمی اور ممکنہ مالی دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔

سولر صارفین کو بڑا دھچکا: نیپرا نے نیشنل گرڈ کو بجلی فروخت کرنے کے نرخ کم کر دیے

مزید برآں، نئے نظام کے تحت صارفین کی نیٹ بلنگ اب حکومتی ٹیرف اور سلیبس کے مطابق ہوگی، اور وہ نیشنل گرڈ سے لی جانے والی بجلی کی قیمت پر براہِ راست انحصار کریں گے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ اس نئے نظام کے نفاذ سے موجودہ سولر صارفین متاثر نہ ہوں اور نئے صارفین کے لیے بھی سرمایہ کاری کے مواقع محفوظ رہیں۔ وزیراعظم نے اجلاس کے اختتام پر واضح کیا کہ اس معاملے کی مکمل نگرانی کی جائے گی اور نیپرا کے نئے ریگولیشنز کے ممکنہ اثرات کے پیش نظر فوری اصلاحات کو یقینی بنایا جائے گا۔

یہ اقدامات پاکستان میں سولر انرجی کے فروغ اور نیشنل گرڈ کی کارکردگی کے توازن کے لیے اہم ہیں اور حکومت کی کوشش ہے کہ سولر صارفین کے حقوق اور توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع دونوں برقرار رہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter