بلوچستان سے دہشت گردی کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، وزیراعظم شہباز شریف

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک حکومت چین سے نہیں بیٹھے گی اور اس ناسور کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح خیبرپختونخوا میں دہشت گرد عناصر نے امن و امان کی صورتحال کو متاثر کیا، اسی طرز پر بلوچستان میں بھی عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم ریاست ان عناصر کے سامنے ہرگز سر نہیں جھکائے گی۔

latest urdu news

کوئٹہ میں سیاسی رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ فتنہ الخوارج کو ایک ہمسایہ ملک کی جانب سے مکمل معاونت حاصل ہے، جس کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج پوری قوت اور عزم کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف برسرپیکار ہیں اور فیلڈ مارشل اس جنگ میں افواج کی قیادت کر رہے ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ صرف سکیورٹی فورسز کی نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے۔ انہوں نے این ایف سی ایوارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس کے تحت صوبوں کو وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی نے این ایف سی میں صوبے کے لیے 100 فیصد اضافے کا مطالبہ کیا تھا، جس کی قیادت پنجاب نے کی۔ وزیراعظم نے بتایا کہ پنجاب اپنے حصے میں سے 11 ارب روپے بلوچستان کو فراہم کرتا ہے، جو بین الصوبائی یکجہتی کی عملی مثال ہے۔

بلوچستان میں سیکیورٹی خدشات کے باعث ٹرین سروس ایک روز کے لیے معطل

وزیراعظم نے ترقیاتی منصوبوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کراچی سے چمن تک چار رویہ شاہراہ کا آغاز کیا جا رہا ہے، جس کا افتتاح آج ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک کے لیے معاشی سرگرمیوں کو فروغ دے گا اور تجارتی روابط مضبوط ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں دانش اسکولز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ پسماندہ علاقوں کے بچوں کو معیاری تعلیم کی سہولت فراہم کی جا سکے۔ وزیراعظم کے مطابق تعلیم، ترقی اور امن ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور حکومت بلوچستان کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہی ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter