وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صارفین سے ٹیکس وصول کرکے اسے قومی خزانے میں جمع کرانے کے بجائے اپنی جیب میں ڈالنے والے کاروبار کسی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں۔ انہوں نے ٹیکس نظام میں اصلاحات تیز کرنے اور محصولات کی مکمل استعداد حاصل کرنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
اسلام آباد میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی اصلاحات سے متعلق جائزہ اجلاس کے دوران وزیراعظم نے ٹیکس وصولیوں کے نظام کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس کی مکمل استعداد سے فائدہ اٹھانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
فیس لیس نظام کے تحت پیداوار کی نگرانی
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ فیس لیس نظام کے تحت کیمروں کی مدد سے پیداواری عمل کی نگرانی کو مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ اس نظام کا مقصد نگرانی کے عمل کو بہتر بنانا اور ٹیکس وصولیوں میں شفافیت کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ صارفین سے ٹیکس وصول کرنے والے کاروباری اداروں کو یہ رقم قومی خزانے میں جمع کرانی چاہیے۔ ٹیکس کی رقم کو اپنی جیب میں ڈالنا قابل قبول نہیں اور ایسے کاروبار رعایت کے مستحق نہیں ہو سکتے۔
ٹیکس اصلاحات کے حوالے سے حکومت کی توجہ محصولات کے نظام کو بہتر بنانے، ٹیکس وصولیوں میں شفافیت لانے اور دستیاب وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھانے پر مرکوز ہے۔
چھوٹے کاروباروں کے لیے قرضوں کا ہدف دوگنا کرنے کی ہدایت
دوسری جانب وزیراعظم نے سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) سے متعلق اجلاس میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے قرضوں کی مالیت بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔
تنخواہ دار طبقہ انکم ٹیکس دینے میں ریٹیل اور رئیل اسٹیٹ سے آگے
وزیراعظم کے مطابق ان کاروباروں کے لیے قرضوں کی مجموعی مالیت 2028 تک 1.1 ٹریلین روپے سے بڑھا کر 2.2 ٹریلین روپے کی جائے۔ اس اقدام کا مقصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری افراد کے لیے مالی وسائل تک رسائی بہتر بنانا ہے۔
قرضوں کے حصول کے طریقہ کار سے آگاہی پر زور
شہباز شریف نے سمیڈا کو ہدایت کی کہ کاروباری افراد کو قرضوں کے حصول کے طریقہ کار سے آگاہ کرنے کے لیے ایک جامع لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔
اس سلسلے میں کاروباری افراد کو دستیاب مالی سہولتوں، درخواست دینے کے طریقہ کار اور قرضوں تک رسائی کے مراحل سے متعلق معلومات فراہم کرنا اہم ہوگا، تاکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار حکومتی سہولتوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔
حکومت کی جانب سے قرضوں کی مالیت بڑھانے کا مجوزہ ہدف چھوٹے کاروباروں کی مالی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، تاہم اس کے عملی نتائج کا انحصار قرضوں کی دستیابی، طریقہ کار کی آسانی اور کاروباری افراد تک معلومات کی مؤثر فراہمی پر ہوگا۔
