بلوچستان کے ضلع پنجگور میں سیکیورٹی فورسز نے ایک اہم آپریشن کے دوران دہشتگرد ساجد احمد کو گرفتار کر لیا ہے۔ ڈی آئی جی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) بلوچستان اعتزاز احمد گورایہ کے مطابق گرفتار دہشتگرد بھاری مقدار میں اسلحہ پنجگور سے تربت منتقل کر رہا تھا، جس پر کارروائی کرتے ہوئے اسے حراست میں لیا گیا اور جدید اسلحہ برآمد کیا گیا۔
ڈی آئی جی کے مطابق ساجد احمد انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہے اور ماضی میں یونیورسٹی آف تربت میں تدریسی فرائض بھی انجام دے چکا ہے۔ وہ سوشل میڈیا پر کالعدم تنظیموں کا مواد پھیلانے میں سرگرم رہا اور اس کے بی ایل ایف اور بی ایل اے سے روابط بھی تھے۔
تفتیش کے دوران یہ انکشاف بھی ہوا کہ ساجد احمد نے پڑوسی ملک میں موجود کمانڈر دوستین سے تربت کے مختلف مقامات کی تصاویر شیئر کیں اور خود بھی ملاقات کے لیے اس ملک گیا۔ دہشتگرد کے موبائل فون سے اہم شواہد حاصل کیے گئے ہیں جو اس کی دہشتگردی کی سرگرمیوں کی تصدیق کرتے ہیں۔
سی ٹی ڈی بلوچستان کے مطابق اسی کارروائی کے سلسلے میں مزید تین دہشتگرد بھی گرفتار کیے گئے، جن میں خاران کے رہائشی 18 سالہ سرفراز اور 20 سالہ جہانزیب شامل ہیں، جو دہشتگردوں کی ریکی اور نقل و حرکت میں ملوث تھے۔
بنوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 22 خارجی دہشتگرد ہلاک
دوسری جانب ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ بلوچستان حمزہ شفقات نے بتایا کہ صوبے میں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ایک نیا ادارہ قائم کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ سال صوبے میں 730 سے زائد انسداد دہشتگردی آپریشنز کیے گئے، اور گزشتہ تین ماہ کے دوران دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
حمزہ شفقات نے مزید کہا کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے صوبے کے ہر ضلع میں اس ادارے کی شاخیں قائم کی جا رہی ہیں تاکہ امن و امان کو مستحکم کیا جا سکے اور عوام کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔
