پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کے لیے کوئی سازگار ماحول موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ پی ٹی آئی اصولی طور پر بات چیت کے حق میں ہے، تاہم عملی طور پر مذاکرات کی کوئی واضح امید نظر نہیں آ رہی۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ تحریک انصاف ہمیشہ مذاکرات کو مسئلے کا حل سمجھتی ہے، مگر موجودہ صورتحال میں حکومت کی جانب سے ایسا کوئی اقدام سامنے نہیں آیا جو سنجیدہ مذاکرات کی عکاسی کرے۔ ان کے مطابق محض بیانات سے مذاکرات کا عمل آگے نہیں بڑھ سکتا۔
انہوں نے آئین کے آرٹیکل 17 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس شق کے تحت ہر سیاسی جماعت کو سیاست کرنے اور سیاسی سرگرمیاں انجام دینے کا بنیادی حق حاصل ہے، لیکن عملی طور پر پی ٹی آئی کو کسی قسم کی سیاسی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 17(2) واضح طور پر یہ کہتا ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت اگر ملک کی سالمیت کے خلاف کام کرے تو اس کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔
ریاست سے محاذ آرائی جاری رہی تو پی ٹی آئی کو سیاسی نقصان ہوگا، رانا ثنا اللہ
سینیٹر علی ظفر نے مزید کہا کہ اس آرٹیکل پر پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث ہوئی تھی، جس کے بعد الیکشن ایکٹ تشکیل دیا گیا۔ ان کے مطابق الیکشن ایکٹ میں بھی یہ واضح کیا گیا ہے کہ کسی سیاسی جماعت پر ملک کے خلاف سرگرمیوں کا الزام عائد کرنے کے لیے محض دعویٰ کافی نہیں بلکہ ٹھوس اور قابلِ قبول شواہد ہونا ضروری ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے الزامات کے ثبوت سپریم کورٹ یا کسی آئینی عدالت میں پیش کیے جاتے ہیں، نہ کہ صرف سیاسی بیانات کے ذریعے فیصلے کیے جائیں۔ بیرسٹر علی ظفر نے زور دیا کہ جب تک قانونی تقاضے پورے نہیں کیے جاتے، کسی جماعت کے سیاسی حقوق محدود نہیں کیے جا سکتے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کے لیے ماحول نہیں بنایا جا رہا، جس کی وجہ سے بات چیت کا عمل تعطل کا شکار ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں مذاکرات کی فضا بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے، اور جب تک ایسا نہیں ہوتا، کسی بامعنی پیش رفت کی توقع مشکل ہے۔
