اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے روایتی شپنگ روٹس متاثر ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں گوادر پورٹ کی اہمیت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ گوادر بندرگاہ اب علاقائی کشیدگی کے دوران محفوظ بحری مرکز کے طور پر ابھر رہی ہے اور عالمی شپنگ لائنز اب اسے محفوظ متبادل کے طور پر استعمال کرنے لگی ہیں۔
نئے جہاز کی کامیاب برتھنگ اور ٹرانس شپمنٹ
وفاقی وزیر نے گوادر پورٹ پر نئے جہاز ایم وی ایچ ایم او لیڈر کی کامیاب برتھنگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ اس جہاز نے مجموعی طور پر 35 یونٹس ٹرانس شپمنٹ کارگو کو ہینڈل کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ گوادر پورٹ نہ صرف کارگو کی ترسیل کے لیے تیار ہے بلکہ ٹرانس شپمنٹ کارگو کے لیے مفت اسٹوریج سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے، جو بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں کے لیے کشش کا باعث ہے۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی: وزیراعظم ہنگامی سرکاری دورے پر سعودی عرب روانہ
خطے میں بدلتے ہوئے شپنگ کے منظرنامے
خطے میں جاری کشیدگی نے عالمی شپنگ کمپنیوں کو متبادل راستوں کی تلاش پر مجبور کر دیا ہے۔ اکثر روایتی شپنگ روٹس، جو مشرق وسطیٰ کے پانیوں سے گزرتے ہیں، اب خطرات کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے باعث محفوظ اور قابل اعتماد بندرگاہیں جیسے گوادر اہمیت اختیار کر رہی ہیں۔
وفاقی وزیر کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف پاکستان کی معیشت کے لیے مثبت ہے بلکہ ملک کو علاقائی تجارت اور بین الاقوامی شپنگ میں اہم مقام دلانے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔
مستقبل کے امکانات
محمد جنید انوار نے کہا کہ گوادر بندرگاہ کے ترقیاتی اقدامات اور جدید سہولیات کی وجہ سے عالمی شپنگ لائنز اب اسے ترجیحی بندرگاہ کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو گوادر کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی اور یہ پاکستان کے لیے اقتصادی و تجارتی فوائد کا سبب بن سکتی ہے۔
مجموعی طور پر، گوادر پورٹ نہ صرف ایک محفوظ متبادل کے طور پر ابھر رہی ہے بلکہ یہ پاکستان کے عالمی تجارتی نیٹ ورک میں اپنی جگہ مضبوط کرنے کی جانب اہم قدم ہے۔
