وزیر دفاع خواجہ آصف نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے تناظر میں سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مذاکرات نتیجہ خیز بھی ثابت ہوتے تو اس بات کی کیا ضمانت تھی کہ معاہدے یا طے پانے والے معاملات کا احترام کیا جاتا۔
اسلام آباد میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں پی ٹی آئی کی سیاسی سرگرمیوں اور حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے سخت ردعمل دیا۔
خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے کارکن احتجاج کے دوران اسلحہ لے کر سڑکوں پر موجود ہیں، جبکہ ان کے بقول پارٹی قیادت سرکاری گاڑیوں اور دیگر وسائل کا استعمال کر رہی ہے۔
انہوں نے پی ٹی آئی کی جانب سے جاری احتجاج کے دوران عدالتی احکامات اور مقررہ شرائط کی مبینہ خلاف ورزی کا بھی الزام عائد کیا۔
کارکنوں اور قیادت کے کردار پر سوال
وزیر دفاع نے اپنے بیان میں پی ٹی آئی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی لیڈر واقعی اپنے کارکنوں کے ساتھ کھڑا ہو تو اسے احتجاج کے دوران کارکنوں کے شانہ بشانہ موجود ہونا چاہیے۔
خواجہ آصف نے اپنی تنقید میں سخت زبان استعمال کرتے ہوئے پارٹی قیادت کے طرزِ عمل پر سوالات اٹھائے اور کہا کہ سیاسی قیادت کو اپنے کارکنوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
ان کے مطابق احتجاج کے دوران عدالتی احکامات اور طے شدہ شرائط کی خلاف ورزی کے معاملات بھی سامنے آئے ہیں، جنہیں حکومت کی جانب سے سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔
مذاکرات کے احترام کی ضمانت کون دے گا؟
خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات اگر کامیاب بھی ہوجاتے تو سوال یہ ہے کہ طے پانے والے معاملات اور معاہدوں کا احترام کرنے کی کیا ضمانت موجود ہوتی۔
انہوں نے قومی ایکشن پلان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے پر تمام متعلقہ فریقوں کا اتفاق اور اس کے احترام کی ضرورت ہے، تاہم ان کے دعوے کے مطابق پی ٹی آئی اس حوالے سے حکومت کے مؤقف سے اتفاق نہیں کرتی۔
پی ٹی آئی دہشت گردوں کی مالی معاونت میں ملوث، کالعدم ٹی ٹی پی کی بی ٹیم ہے، وزیراطلاعات
وزیر دفاع نے افغانستان سے ہونے والے مبینہ ڈرون حملوں اور دہشت گردی کے واقعات کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات پر ریاستی اداروں، فوج، نیم فوجی دستوں یا پولیس اہلکاروں کی شہادتوں کے معاملے میں پی ٹی آئی کی جانب سے وہ ردعمل سامنے نہیں آیا جس کی حکومت توقع کرتی ہے۔
اسلام آباد احتجاج اور سخت بیانات
خواجہ آصف نے اپنے بیان میں پی ٹی آئی کے احتجاجی بیانیے اور اسلام آباد کی جانب مارچ کے حوالے سے بھی سخت الفاظ استعمال کیے۔ انہوں نے ماضی میں دیے گئے بعض بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھانے کے بجائے عملی سیاسی اور آئینی راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد کے احتجاج کے حوالے سے استعمال کیے گئے ’’سومنات‘‘ اور ’’غزنی‘‘ جیسے تاریخی حوالوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ سیاسی معاملات کو اس نوعیت کی زبان کے بجائے آئینی اور جمہوری طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔
وزیر دفاع کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے خاتمے کے بعد دونوں جانب سے ایک دوسرے کو مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے بعض مطالبات اور احتجاجی حکمت عملی پر اعتراضات اٹھائے گئے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ حکومت مذاکرات میں سنجیدہ اور لچک دار رویہ اختیار نہیں کر رہی تھی۔
یوں مذاکرات کے بعد سیاسی کشیدگی برقرار ہے اور دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف کے حق میں بیانات دے رہے ہیں۔
