سابق ڈی آئی جی ٹریفک کراچی پیر محمد شاہ کا عہدے سے ہٹائے جانے کی کہانی

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی میں سابق ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے عہدے سے ہٹائے جانے کے معاملے کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ذاتی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے ایک تاجر کو اغوا کروانے کی کوشش کی، جس کے بعد آئی جی سندھ پولیس نے ان سے وضاحت طلب کی تھی۔ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے۔

latest urdu news

تاجر کی شکایت اور مقدمہ

تاجر دانش متین نے پولیس میں درخواست دی کہ وہ 14 جنوری کو اپنے دفتر جانے کے لیے ڈیفنس فیز 6 سے نکلے تو سفید گاڑی میں سوار تین افراد نے انہیں روک کر زبردستی گاڑی میں لے جانے کی کوشش کی۔

تاجر کے مطابق:

  • دو افراد نے پولیس یونیفارم جیسا لباس پہنا ہوا تھا۔
  • ملزمان نے ان سے 31 کروڑ روپے سے زائد رقم کا مطالبہ کیا۔
  • اسی دن ملزمان نے تاجر کے گھر کال کر کے 30 لاکھ روپے تاوان بھی طلب کیے۔
  • بعد میں ہائی وے کے قریب 10 لاکھ روپے لے کر تاجر کو چھوڑ دیا گیا اور رات ساڑھے 11 بجے کے قریب وہ دفتر کے قریب واپس آئے۔

اس واقعے کے بعد 22 جنوری کو تاجر کی مدعیت میں گزری تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا۔

پولیس کی کارروائی اور معطلی

ایس ایس پی حیدرآباد کے مطابق، واقعے میں ملوث تین اہلکار معطل کر دیے گئے ہیں جن میں ایک اے ایس آئی اور دو کانسٹیبل شامل ہیں۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ تاجر کو اغوا کرنے کی کوشش میں حیدرآباد پولیس کے اہلکار براہِ راست ملوث تھے۔

ڈی آئی جی ٹریفک کراچی کی تبدیلی

اس واقعے کے بعد ڈی آئی جی ٹریفک کراچی پیر محمد شاہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ ان کی جگہ مظہر نواز شیخ کو تعینات کیا گیا ہے۔ آئی جی سندھ کے خط میں بتایا گیا کہ پیر محمد شاہ نے 19 دسمبر 2025 کو حیدرآباد میں تاجر کے خلاف مقدمہ درج کروایا، جس میں 31 کروڑ روپے کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

تفتیشی حکام کے مطابق معاملے کی چھان بین جاری ہے اور واقعے میں شامل دیگر عناصر کی شناخت کے لیے مزید کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter