اسلام آباد کے علاقے جی سیون ٹو آبپارہ میں شادی کی ایک تقریب اس وقت افسوسناک سانحے میں تبدیل ہو گئی جب شادی والے گھر میں اچانک گیس سلنڈر دھماکا ہو گیا۔ اس دل دہلا دینے والے حادثے میں دلہا اور دلہن سمیت مجموعی طور پر 8 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ 6 افراد زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور خوشیوں سے بھرا گھر لمحوں میں ملبے کا ڈھیر بن گیا۔
حادثے کی تفصیلات
ریسکیو حکام کے مطابق دھماکا اس قدر شدید تھا کہ متاثرہ عمارت کا ایک بڑا حصہ زمین بوس ہو گیا۔ ملبے تلے دب کر کئی افراد زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر نکال کر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جبکہ جاں بحق افراد کی لاشیں بھی اسپتال منتقل کر دی گئی ہیں تاکہ قانونی کارروائی مکمل کی جا سکے۔
شادی کی تقریب کے دوران دھماکا
پولیس کے مطابق گھر میں شادی کی تقریب جاری تھی اور رات تقریباً دو بجے بارات دلہن کے گھر پہنچی ہی تھی کہ اچانک گیس سلنڈر پھٹ گیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق باورچی خانے یا کھانے کی تیاری کے مقام پر موجود سلنڈر دھماکے کا سبب بنا، تاہم حتمی وجوہات کا تعین تحقیقات کے بعد کیا جائے گا۔ اس حادثے کے نتیجے میں نہ صرف شادی والا گھر بلکہ اردگرد کے کم از کم چار مکانات بھی متاثر ہوئے۔
ریسکیو اور امدادی کارروائیاں
دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، ریسکیو 1122 اور دیگر امدادی اداروں کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ ملبہ ہٹانے اور پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے بھاری مشینری کا استعمال کیا گیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق امدادی کارروائیاں کئی گھنٹوں تک جاری رہیں تاکہ کسی ممکنہ زندہ فرد کو بچایا جا سکے۔
لاڑکانہ: گیس سلنڈر دھماکے میں زخمی خاتون جاں بحق، ہلاکتوں کی تعداد 5 تک پہنچ گئی
تحقیقات اور حفاظتی خدشات
پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ گیس سلنڈر دھماکے کی اصل وجہ کیا تھی، آیا سلنڈر خراب تھا یا حفاظتی اصولوں پر عمل نہیں کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق شادی بیاہ کے مواقع پر اضافی گیس سلنڈرز کا استعمال عام ہے، جو مناسب احتیاط نہ ہونے کی صورت میں سنگین حادثات کا سبب بن سکتا ہے۔
عوام کے لیے احتیاطی پیغام
اس افسوسناک واقعے نے ایک بار پھر گیس سلنڈرز کے محفوظ استعمال کی اہمیت کو اجاگر کر دیا ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ گھریلو تقریبات کے دوران حفاظتی اصولوں پر سختی سے عمل کریں تاکہ قیمتی جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔
