پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد انٹرسٹی بس کرایوں میں اضافہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست عوام پر اثر انداز ہوا، بس کرایوں میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے

latest urdu news

بڑے شہروں کے درمیان کرایوں میں اضافہ

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد ملک بھر میں انٹرسٹی بسوں کے کرایوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔ لاہور سے مختلف شہروں کے لیے کرایوں میں نمایاں فرق آیا ہے، جس کا اثر مسافروں پر براہِ راست پڑا ہے۔

مثال کے طور پر، لاہور سے کراچی کا کرایہ 12,200 روپے تک پہنچ گیا، جو پہلے 9,200 روپے تھا، یعنی 3 ہزار روپے کا اضافہ ہوا۔ اسی طرح لاہور سے مری کے لیے کرایہ 3,100 روپے سے بڑھ کر 3,720 روپے ہو گیا ہے۔

دیگر شہروں کے لیے نئی کرایے

لاہور سے راولپنڈی کے لیے ایگزیکٹو بس کا کرایہ 2,250 روپے سے بڑھ کر 2,480 روپے جبکہ ایگزیکٹو پلس کرایہ 3,350 روپے سے بڑھ کر 3,680 روپے ہو گیا ہے۔

اسی طرح، دیگر اہم شہروں کے کرایے بھی بڑھائے گئے ہیں:

  • لاہور سے صادق آباد: 3,500 سے بڑھ کر 4,200 روپے
  • لاہور سے ملتان: 3,150 سے بڑھ کر 3,750 روپے
  • لاہور سے سیالکوٹ: 1,800 سے بڑھ کر 2,150 روپے
  • لاہور سے پاکپتن: 1,400 سے بڑھ کر 1,750 روپے
  • لاہور سے سرگودھا: 1,650 سے بڑھ کر 2,000 روپے

اضافے کی وجوہات

ماہرین کے مطابق بس کرایوں میں یہ اضافہ بنیادی طور پر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے سبب ہوا ہے۔ ٹرانسپورٹ کمپنیاں ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو کور کرنے کے لیے کرایوں میں اضافہ کرنے پر مجبور ہیں۔

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل 55 روپے فی لیٹر مہنگا کر دیا

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پیشگی منصوبہ بندی اور انتظامات بروقت نہ کیے جاتے تو پیٹرول کی قیمت 375 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی تھی، جس سے کرایوں میں اور بھی زیادہ اضافہ متوقع تھا۔

مسافروں پر اثرات

کرایوں میں یہ اضافہ روزانہ کے سفر کرنے والے مسافروں کے بجٹ پر براہِ راست اثر ڈالے گا، خاص طور پر وہ لوگ جو روزمرہ کے کام یا تعلیم کے سلسلے میں انٹرسٹی بسیں استعمال کرتے ہیں۔

ماہرین ٹرانسپورٹ کے شعبے میں کہتے ہیں کہ اگر قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو آئندہ مہینوں میں دیگر شہروں کے کرایوں میں بھی اضافہ متوقع ہے، جس سے عوامی آمد و رفت مہنگی ہو جائے گی۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter