آئی ایم ایف نے پاکستان میں مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کر دیا، شرح 9.9 فیصد تک پہنچنے کا امکان

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان میں رواں مالی سال مہنگائی کی شرح میں اضافے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے اسے 9.9 فیصد تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا ہے۔ ادارے کے مطابق عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے سے معیشت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

latest urdu news

پاکستان میں مہنگائی اور معاشی نمو سے متعلق تخمینے

آئی ایم ایف کی جاری کردہ ورلڈ اکنامک آؤٹ لک 2026 رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ مالی سال مہنگائی کی شرح 7.1 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال یہ شرح بڑھ کر 9.9 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔

رپورٹ میں رواں مالی سال پاکستان کی معاشی نمو 3.5 فیصد رہنے کا تخمینہ بھی لگایا گیا ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں اضافے کی شرح 3.6 فیصد رہی تھی۔

آئی ایم ایف کے مطابق رواں مالی سال پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے ایک فیصد کے برابر رہنے کا امکان ہے، جبکہ بے روزگاری کی شرح 6.5 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

عالمی معاشی نمو سست ہونے کا امکان

آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق عالمی معاشی نمو کی شرح 2025 میں 3.5 فیصد تھی، جو 2026 میں کم ہو کر 3.1 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ تاہم 2027 میں عالمی معیشت کی شرح نمو 3.4 فیصد تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں مشرق وسطیٰ کی جنگ اور عالمی سطح پر جاری کشیدگی کو مہنگائی کے اہم خطرات میں شمار کیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کے تخمینے کے مطابق 2026 میں عالمی مہنگائی کی شرح 4.7 فیصد رہ سکتی ہے۔

آئی ایم ایف کا فیول اسکیم محدود کرنے کا مطالبہ، صرف مستحقین کو ریلیف دینے پر زور

ادارے کا کہنا ہے کہ عالمی معیشت میں مختلف ممالک کی کارکردگی کے درمیان فرق بڑھ رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے شعبے سے وابستہ معیشتیں اور توانائی برآمد کرنے والے ممالک نسبتاً بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں، جبکہ توانائی درآمد کرنے والے اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں پیچھے رہ جانے والے ممالک کو زیادہ معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔

تیل کی قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی میں اضافے کا خطرہ

آئی ایم ایف کے مطابق سپلائی چین میں بہتری اور تیل کی پیداوار کے متبادل ذرائع کے باوجود توانائی کے ذخائر پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ کسی بڑے جغرافیائی سیاسی بحران کی صورت میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات توانائی درآمد کرنے والے ممالک کی معیشتوں پر پڑ سکتے ہیں۔

پاکستان جیسے ممالک کے لیے عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے سے درآمدی اخراجات بڑھنے اور مہنگائی میں اضافے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

حکومتوں کو مالی استحکام اور ہدفی ریلیف کی ضرورت

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ عوامی قرضوں اور بلند شرح سود کے باعث کئی حکومتوں کے لیے اضافی اخراجات برداشت کرنے کی گنجائش محدود ہو چکی ہے۔

آئی ایم ایف نے متوسط مدت میں معاشی استحکام برقرار رکھنے، مالیاتی خسارے پر قابو پانے اور کمزور طبقوں کو ہدفی ریلیف فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

پاکستان میں مہنگائی کے حوالے سے پیش کیے گئے یہ اعداد و شمار تخمینوں پر مبنی ہیں۔ عالمی توانائی کی قیمتوں، جغرافیائی سیاسی حالات اور ملکی معاشی پالیسیوں میں تبدیلیاں آئندہ مہینوں میں مہنگائی اور معاشی نمو کی صورت حال پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں