تحقیقات میں سامنے آنے والی تفصیلات نے آگ سے نمٹنے کے نظام اور حفاظتی انتظامات پر کئی سوالات کھڑے کر دیے۔
کراچی میں پیش آنے والے گل پلازہ آتشزدگی واقعے کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ چیف فائر افسر نے بتایا کہ اگر عمارت کی بجلی بند نہ کی جاتی اور بروقت اعلانات کیے جاتے تو کئی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔
کمیشن کی کارروائی اور ابتدائی معلومات
سانحے کی تحقیقات کے لیے اجلاس سندھ ہائیکورٹ کے جج جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں ہوا، جس میں ریسکیو حکام اور فائر بریگیڈ افسران پیش ہوئے۔
ڈی جی ریسکیو 1122 واجد صبغت اللہ نے بتایا کہ آگ کی اطلاع رات تقریباً 10 بج کر 35 منٹ پر ملی اور چند منٹ بعد امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں، تاہم شدید دھوئیں اور محدود راستوں کے باعث ریسکیو آپریشن مشکل رہا۔
انہوں نے بتایا کہ گراؤنڈ فلور سے آگ اوپر کی منزلوں تک ایئرکنڈیشننگ ڈکٹ کے ذریعے پھیل گئی، جبکہ کئی افراد یہ سمجھتے رہے کہ آگ پر قابو پا لیا جائے گا اور وہ باہر نکلنے میں تاخیر کرتے رہے۔
بجلی بند ہونے اور روشنی کی کمی کے اثرات
چیف فائر افسر ہمایوں خان نے کمیشن کو بتایا کہ اگر عمارت میں روشنی برقرار رہتی یا ایمرجنسی لائٹس موجود ہوتیں تو نقصان کم ہوسکتا تھا۔ ان کے مطابق دھواں اس قدر گہرا تھا کہ موبائل فون کی ٹارچ بھی مؤثر ثابت نہیں ہو رہی تھی اور لوگ راستہ نہ ملنے کی وجہ سے پھنس گئے۔
جوڈیشل کمیشن نے تحقیقات کے لیے اہم حکام کو طلب کرلیا:گل پلازہ سانحہ
انہوں نے مزید کہا کہ فوم کا استعمال بھی اس آگ میں مؤثر نہ ہوتا کیونکہ درجہ حرارت ایک ہزار ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد تھا، جو انتہائی خطرناک سطح سمجھی جاتی ہے۔
ریسکیو آپریشن میں درپیش مشکلات
فائر حکام کے مطابق عمارت کے کئی داخلی راستے بند تھے، کھڑکیوں پر لوہے کی گرلیں لگی ہوئی تھیں اور سیڑھیوں تک رسائی مشکل تھی۔ ٹریفک جام اور رش کے باعث فائر ٹینڈرز کو موقع تک پہنچنے میں بھی مشکلات پیش آئیں۔
مزید یہ کہ شہر میں فعال فائر ہائیڈرنٹس کی کمی کے باعث پانی کی فراہمی ٹینکروں کے ذریعے کی گئی، جس سے آگ بجھانے میں وقت لگا۔
حفاظتی انتظامات اور نظام پر سوالات
کمیشن نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ آگ لگنے کی وجوہات کیا تھیں اور عمارت میں حفاظتی انتظامات کیوں ناکافی تھے۔ چیف فائر افسر نے بتایا کہ دکانوں میں فالس سیلنگ اور ناقص وینٹیلیشن آگ کے تیزی سے پھیلنے کی ممکنہ وجوہات ہوسکتی ہیں، تاہم حتمی وجہ کا تعین تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ایسے سانحات شہری انفراسٹرکچر، ایمرجنسی سسٹم اور عمارتوں میں حفاظتی معیار کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ کمیشن کی کارروائی سے توقع کی جا رہی ہے کہ ذمہ داروں کا تعین ہوگا اور مستقبل میں ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔
