خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ناانصافی اور دوہرے معیار کے خلاف ان کی مزاحمت جاری ہے اور وہ اس جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں قانون کا اطلاق سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے، مگر بدقسمتی سے موجودہ حالات اس کے برعکس ہیں۔
اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ توشہ خانہ سے قیمتی گاڑیاں لینے والے آج اقتدار میں ہیں، جبکہ قانونی طریقے سے چیزیں حاصل کرنے والوں کو جیل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو انصاف کے اصولوں کے منافی قرار دیا۔
ظلم و فسطائیت میں قومیں نہیں بنتیں صرف سڑکیں بنتی ہیں :سہیل آفریدی
بعد ازاں صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر بات کی اور کہا کہ پائیدار اور دیرپا امن کے قیام کے لیے ایک جامع اور ہمہ گیر پالیسی ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق تمام فریقین کی مشاورت اور باہمی تعاون سے ہی مؤثر حکمت عملی تشکیل دی جا سکتی ہے، جس کے نتیجے میں صوبے اور ملک میں امن بحال ہوگا۔
