بند کمروں کی سیاست سے عوام مایوس ہو چکے ہیں: سہیل آفریدی

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں نے عوام کو شدید دل برداشتہ کر دیا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ معاملات کو شفاف طریقے سے، تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر حل کیا جائے۔ صوبائی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا اور اس کے عوام کے مفاد میں وہ ہر کسی کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کے لیے تیار ہیں، مگر فیصلے عوامی مفاد کے خلاف اور پس پردہ نہیں ہونے چاہئیں۔

latest urdu news

سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت کی اولین ترجیح خیبر پختونخوا کے عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہے، تاہم جب فیصلے بند کمروں میں ہوتے ہیں تو اس کا خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق ایسے فیصلوں کی وجہ سے عوام میں مایوسی بڑھ رہی ہے اور ریاستی اداروں پر اعتماد مجروح ہو رہا ہے۔

وزیراعلیٰ نے انکشاف کیا کہ انہوں نے لازمی رقوم کی عدم ادائیگی پر وزیراعظم کو باضابطہ خط ارسال کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق کے ذمے خیبر پختونخوا کے 4 ہزار 758 ارب روپے واجب الادا ہیں جو تاحال ادا نہیں کیے جا رہے، جبکہ ملک مجموعی طور پر معاشی بحران اور دیوالیہ پن کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔

انہوں نے تیراہ کے علاقے میں ایک بار پھر جبری انخلاء کے فیصلے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ تیراہ میں آپریشن کا فیصلہ انہیں سیاسی طور پر کمزور کرنے کے لیے کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب ماضی میں جبری انخلاء ہوا تو وہ خود تیراہ گئے، جہاں مقامی لوگوں نے انہیں عزت دی اور مسائل کے حل کے لیے تجاویز بھی پیش کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مسائل کا حل موجود ہے تو پھر ضد اور طاقت کے استعمال کی کیا ضرورت ہے؟ تمام متعلقہ فریقین کو مل بیٹھ کر معاملات طے کرنے چاہئیں۔

سہیل آفریدی: خیبر پختونخوا میں گورنر راج ناممکن، مجھے نااہل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے تسلیم کیا کہ شدید سردی میں لوگوں کے انخلاء سے متعلق ان سے غلطی ہوئی، جس پر بعد میں پریس ریلیز بھی جاری کی گئی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس پریس ریلیز میں 4 ارب روپے کے فنڈز کا ذکر کیا گیا تھا، تاہم عملی طور پر مسائل اب بھی برقرار ہیں۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ وفاق خیبر پختونخوا کے بے گھر افراد (آئی ڈی پیز) کے 52 ارب روپے کا بھی مقروض ہے، جو ادا نہیں کیے جا رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے صوبے کے عوام کو کیڑے مکوڑوں سے زیادہ اہمیت نہیں دی جا رہی۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ اب زبانی وعدوں کے بجائے تحریری رابطہ ہوگا اور صوبے کے حقوق کے لیے ہر آئینی اور قانونی فورم پر آواز اٹھائی جائے گی۔

ان کے اس خطاب کو صوبائی خودمختاری، شفاف حکمرانی اور وفاقی رویے کے خلاف ایک سخت پیغام قرار دیا جا رہا ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں قومی سیاست پر نمایاں ہو سکتے ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter