گورنر راج کا فیصلہ پہلے ہی ہوچکا تھا، مذاکرات دکھاوا تھے: اسد قیصر

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستان تحریکِ انصاف کے سینئر رہنما اسد قیصر نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ بہت پہلے کیا جاچکا تھا، جبکہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کا عمل محض دکھاوا تھا۔

latest urdu news

اسلام آباد میں جیو نیوز کے پروگرام ’’نیا پاکستان‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے اسد قیصر نے لانگ مارچ سے متعلق پارٹی کے اندرونی معاملات، قیادت کے کردار اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں پر بھی اظہارِ خیال کیا۔

لانگ مارچ پر فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنانے پر غور

اسد قیصر نے بتایا کہ لانگ مارچ سے متعلق حقائق کا جائزہ لینے کے لیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دینے پر غور کیا جارہا ہے۔ اس کمیٹی کے ذریعے مارچ کے دوران پیش آنے والے واقعات اور اس سے متعلق مختلف معاملات کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں سلمان اکرم راجا نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو لانگ مارچ کی ناکامی کا ذمہ دار قرار نہیں دیا۔

اسد قیصر کے مطابق علی امین گنڈاپور بھی کور کمیٹی کے اجلاس میں موجود تھے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی مختلف خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں گردش کرنے والی باتوں میں حقیقت نہیں ہوتی۔

مذاکرات کو محض دکھاوا قرار دے دیا

پی ٹی آئی رہنما نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے عمل پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ پہلے ہی ہوچکا تھا اور مذاکرات صرف دکھاوے کے لیے کیے گئے۔

خیبر پختونخوا میں گورنر راج پر مراد علی شاہ کا اہم بیان، مشروط حمایت کردی

اسد قیصر کے اس بیان میں حکومت کی حکمتِ عملی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے۔ تاہم گورنر راج اور ایمرجنسی سے متعلق فیصلے پہلے کیے جانے کے دعوے کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ رپورٹ میں موجود نہیں۔

پی ٹی آئی کے اندرونی معاملات بھی زیرِ بحث

لانگ مارچ کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت اور مختلف رہنماؤں کے کردار سے متعلق بحث جاری ہے۔ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنانے پر غور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پارٹی کے اندر مارچ کے واقعات اور اس کے نتائج کا جائزہ لینے کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔

اسد قیصر نے اپنی گفتگو میں واضح کیا کہ کور کمیٹی کے اجلاس سے متعلق سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی باتوں کو حقیقت سمجھنے سے پہلے ان کی تصدیق ضروری ہے۔ ان کے بیان کے بعد لانگ مارچ کے حوالے سے پارٹی کی آئندہ حکمتِ عملی اور حکومت کے ساتھ مذاکرات کے مستقبل پر توجہ برقرار ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں