کراچی،وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ اگر کوئی بچہ پولیو کا شکار ہو کر معذور ہو جائے تو دنیا میں اس کا کوئی علاج موجود نہیں، جبکہ کینسر جیسی بیماری کا علاج موجود ہے لیکن پولیو کا نہیں۔
نچی ٹی وی چینل کے مطابق کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دنیا کے بیشتر ممالک سے پولیو ختم ہو چکا ہے، مگر پاکستان اور افغانستان میں یہ مرض اب بھی موجود ہے، پاکستان میں پولیو سے بچاؤ کی ایک نئی مہم 21 اپریل سے شروع کی جا رہی ہے۔
سید مصطفیٰ کمال نے انکشاف کیا کہ ملک بھر میں 85 ہزار افراد نے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کر دیا، جن میں سے صرف کراچی میں انکار کرنے والوں کی تعداد 34 ہزار ہے، جبکہ 27 ہزار افراد کا تعلق کراچی کے ضلع شرقی سے ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اگر بچہ پولیو سے معذور ہو جائے تو عمر بھر کے لیے وہ معذوری کا شکار ہو جاتا ہے، اس کا کوئی علاج نہیں۔ 21 سے 27 اپریل تک جاری رہنے والی مہم کے دوران 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ پولیو سے نجات صرف ویکسین سے ہی ممکن ہےاور اس مقصد کے لیے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
یاد رہے کہ پاکستان میں پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کی کئی وجوہات ہیں جن میں عوامی آگاہی کی کمی، جھوٹی افواہیں، مذہبی تحفظات اور ثقافتی اختلافات شامل ہیں، بعض والدین کو یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ پولیو ویکسین بچوں کی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے، جب کہ سوشل میڈیا پر ویکسین کے خلاف پھیلائی جانے والی افواہیں انکار کا باعث بنتی ہیں۔
اس کے علاوہ، کچھ افراد کو سرکاری اداروں اور صحت کے عملے پر اعتماد نہیں ہوتا اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک مغربی سازش ہو سکتی ہے، مذہبی لحاظ سے بھی بعض لوگ اسے حرام سمجھتے ہیں حالانکہ علماء کرام نے اس کی حمایت کی ہے۔
