اسلام آباد،پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اپنی کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹیوں میں ممکنہ تبدیلیوں پر غور کر رہی ہے اور اس حوالے سے پارٹی قیادت کے مابین ان باڈیوں سے شہباز گل جیسے تنازع کا شکار افراد کو الگ کرنے پر مشاورت جاری ہے۔
اندرونی ذرائع کے مطابق، ان مجوزہ تبدیلیوں پر پارٹی کے بانی چیئرمین عمران خان سے مشورہ لیا جائے گا، کیونکہ تنظیمی سطح پر کسی بھی اہم فیصلے کے لیے ان کی منظوری ضروری سمجھی جاتی ہے۔
اسی ضمن میں، حالیہ دنوں میں پی ٹی آئی نے اپنی خارجہ امور اور عالمی تعلقات کی کمیٹی کو باقاعدہ طور پر ختم کر دیا ہے، یہ کمیٹی 28 جنوری 2025 کو تشکیل دی گئی تھی، جس میں زلفی بخاری، سجاد برکی، شہباز گل اور عاطف خان جیسے افراد شامل تھے۔
اس تحلیل کا باقاعدہ اعلان بیرسٹر گوہر خان کے دستخط شدہ نوٹیفکیشن کے ذریعے کیا گیا، جو عمران خان کی ہدایات کے مطابق جاری کیا گیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ امریکا میں مقیم پارٹی کے کچھ بااثر ارکان کی جانب سے عمران خان تک پہنچائی گئی تحفظات کے بعد کیا گیا۔
یہ سمجھا جا رہا ہے کہ بیرون ملک موجود پی ٹی آئی کارکنان، خصوصاً امریکا میں، کمیٹی کے کام کے طریقہ کار اور پالیسیوں کے حوالے سے بے چینی کا شکار تھے،پی ٹی آئی کی امریکی شاخ میں فوج کے ساتھ تعلقات کے معاملے پر مختلف آراء سامنے آئی ہیںکہ کچھ ارکان اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سخت موقف رکھتے ہیں، جبکہ کچھ مفاہمت اور بات چیت کی راہ اپنانے کے حامی ہیں۔
یہ اختلافات اس وقت اور گہرے ہو گئے جب امریکا میں مقیم ڈاکٹروں اور تاجروں کا ایک وفد حالیہ دنوں اسلام آباد پہنچا، جہاں انہوں نے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے بھی ملاقات کی۔
ان ملاقاتوں کو فوج اور پی ٹی آئی کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، مگر بیرون ملک موجود سخت گیر حلقوں نے ان کوششوں کو ناپسندیدگی سے دیکھا اور تنقید کا نشانہ بنایاگیا ۔
