مصطفیٰ کمال نے پولیو سے متعلق پاکستان کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کر دیا

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

 

latest urdu news

نجی دوا ساز ادارے میں ہیلتھ ریسرچ ایڈوائزری بورڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ افغانستان اس وقت پولیو کے خاتمے کے لیے پاکستان سے زیادہ مؤثر اقدامات کر رہا ہے، جبکہ پاکستان میں تحقیق تو ہو رہی ہے مگر اس پر عملدرآمد کی شدید کمی ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ طالبان حکومت بھی بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا رہی ہےاور خطرہ ہے کہ کہیں پاکستان دنیا میں پولیو سے متاثرہ آخری ملک نہ رہ جائے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں بنیادی اور ثانوی صحت کی سہولیات کا شدید فقدان ہے، اور حکومت کی کوشش ہے کہ ہر شہری کا قومی شناختی کارڈ نمبر ہی اس کا مستقل میڈیکل ریکارڈ نمبر بن جائے تاکہ علاج معالجے کا نظام بہتر بنایا جا سکے۔

وفاقی وزیر نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ وزارت صحت ایک نہایت حساس ذمہ داری ہے جہاں معمولی کوتاہی بھی بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے، لہٰذا اس وزارت کو سنبھالنا ایک بڑا چیلنج ہے۔

یاد رہے کہ پولیو ایک انتہائی متعدی وائرس ہے، جو انسانی اعصابی نظام پر حملہ کرتا ہے اور بعض اوقات مستقل طور پر فالج کا موجب بھی بن سکتا ہے۔

 

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter