امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی تیل کی خریداری کے معاملے پر بھارت کو ایک بار پھر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر نئی دہلی نے اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعاون نہ کیا تو بھارت پر اضافی تجارتی ٹیرف عائد کیے جا سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے اس بیان کو امریکا اور بھارت کے درمیان جاری تجارتی مذاکرات کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایک خطاب کے دوران کہا کہ واشنگٹن، روسی تیل کے حوالے سے بھارت کے مؤقف اور عملی اقدامات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا چاہتا ہے کہ عالمی سطح پر روس پر معاشی دباؤ بڑھایا جائے، اور اس مقصد کے لیے شراکت دار ممالک کا تعاون ناگزیر ہے۔
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو آج نیویارک کی وفاقی عدالت میں پیش ہوں گے
صدر ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر بھارت روسی تیل کے مسئلے پر مطلوبہ تعاون نہیں کرتا تو امریکا کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ بھارتی مصنوعات پر ٹیرف میں اضافہ کرے۔ ان کے مطابق تجارتی مراعات کا انحصار ذمہ دارانہ عالمی رویے پر ہوتا ہے اور کوئی بھی ملک اس سے مستثنیٰ نہیں۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور بھارت کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کا یہ سخت لہجہ ان مذاکرات پر اثر انداز ہو سکتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تناؤ میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی صدر ٹرمپ یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ بھارت روس سے تیل کی خریداری بند کر دے گا۔ تاہم اس دعوے پر بھارتی حکومت کی جانب سے اب تک کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی، جبکہ بھارت بدستور روسی تیل کا ایک بڑا خریدار سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نے واقعی ٹیرف بڑھانے کا فیصلہ کیا تو اس کے اثرات نہ صرف دو طرفہ تجارت بلکہ عالمی منڈیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
