پاکستان اور ورلڈ لبرٹی فنانشل کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے ورلڈ لبرٹی فنانشل کے درمیان ڈیجیٹل ادائیگیوں میں جدت اور مالیاتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔ اس معاہدے کو پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

latest urdu news

وزیراعظم ہاؤس میں منعقدہ دستخطی تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، چیئرمین پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی اور دیگر اعلیٰ حکومتی حکام نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران پاکستان اور ورلڈ لبرٹی فنانشل کے درمیان ڈیجیٹل ادائیگیوں اور مالیاتی جدت کے شعبے میں تعاون کو باضابطہ شکل دی گئی۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف سے ورلڈ لبرٹی فنانشل امریکا کے وفد نے بھی ملاقات کی، جس کی قیادت چیف ایگزیکٹو آفیسر زچری وِٹکوف کر رہے تھے۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم نے وفد کو حکومت کے ڈیجیٹل پاکستان وژن سے آگاہ کیا اور کہا کہ ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی، شفافیت اور عوامی سطح پر مالیاتی سہولیات تک آسان رسائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

ملک سےفرمز کا جانا ٹیکس اور مہنگی توانائی حقیقی چیلنجز ہیں: وزیر خزانہ

وزیراعظم نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیاں اور جدید مالیاتی نظام ڈیجیٹل معیشت کی بنیاد ہیں اور ان کے فروغ سے نہ صرف کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا بلکہ معیشت کو دستاویزی بنانے میں بھی مدد ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ڈیجیٹل مالیاتی منڈیوں میں عالمی سطح پر بڑھتی دلچسپی خوش آئند ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان عالمی ڈیجیٹل فنانس نظام کا اہم حصہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس موقع پر ورلڈ لبرٹی فنانشل کے سی ای او زچری وِٹکوف نے پاکستان کے ساتھ محفوظ، شفاف اور جدید ڈیجیٹل ادائیگی کے بنیادی ڈھانچے پر مل کر کام کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس تعاون میں سرحد پار ادائیگیوں، سیٹلمنٹ کے جدید نظام اور زرمبادلہ کے حصول و ادائیگی کے طریقہ کار میں جدت لانے جیسے اقدامات شامل ہوں گے۔

حکام کے مطابق یہ مفاہمتی یادداشت پاکستان میں ڈیجیٹل فنانس، فِن ٹیک اور ورچوئل اثاثہ جات کے شعبے میں نئی راہیں کھولے گی، جس سے سرمایہ کاری کے مواقع بڑھیں گے اور ملکی معیشت کو طویل مدتی استحکام حاصل ہوگا۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter