مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرکٹ کے میدان میں فلسطینی پرچم والے ہیلمٹ کی وجہ سے مسلم کرکٹر فرقان بھٹ تنازعے میں آ گئے ہیں۔
جموں و کشمیر چیمپئنز لیگ کے ایک میچ کے دوران فرقان بھٹ کے ہیلمٹ پر فلسطینی پرچم لگانے کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد بھارتی پولیس نے فوری نوٹس لے لیا۔
پولیس نے کرکٹر اور ٹورنامنٹ کے منتظمین کو طلب کر کے وضاحت طلب کی کہ فلسطینی پرچم لگانے کا مقصد کیا تھا اور آیا اس کے پیچھے کوئی سیاسی یا علیحدگی پسندانہ محرک موجود تھا یا نہیں۔ جموں پولیس نے کہا کہ کھلاڑی اور ایک منتظم کو پوچھ گچھ کے لیے بلایا گیا ہے تاکہ معاملے کی تحقیقات مکمل کی جا سکیں۔
جموں و کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن نے اس معاملے سے لاتعلقی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ چیمپئنز لیگ کوئی سرکاری یا منظور شدہ ٹورنامنٹ نہیں اور فرقان بھٹ کا ایسوسی ایشن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
عثمان خواجہ نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا
اس واقعے پر بھارتی سیاسی حلقوں نے بھی ردعمل دیا ہے۔ بی جے پی کے رکن اسمبلی آر ایس پٹھانیا نے کہا کہ کرکٹ کے میدان میں علیحدگی پسندی یا سیاسی علامات کی کوئی جگہ نہیں، اور فرقان بھٹ اور ٹورنامنٹ منتظمین کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ویڈیوز کے وائرل ہونے کے بعد عوامی ردعمل بھی سامنے آیا، جس میں کچھ افراد نے کرکٹر کے اقدام کو اظہارِ رائے قرار دیا، جبکہ دیگر نے اسے سیاسی کشیدگی بڑھانے والا عمل قرار دیا۔ اس واقعے نے ایک بار پھر جموں و کشمیر میں کھیل اور سیاست کے درمیان نفسیاتی کشمکش کو اجاگر کیا ہے، اور اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ کھیل کے میدان میں سیاسی یا علامتی اظہار پر حساس ردعمل ظاہر کیا جا رہا ہے۔
