جہلم: ضلعی انتظامیہ کی مبینہ عدم توجہی کے باعث جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں بھٹہ مالکان نے اینٹوں کے من مانے نرخ مقرر کر دیے ہیں، جس سے محنت کش طبقہ شدید متاثر ہو رہا ہے۔
اول اینٹ کی قیمت 18 ہزار روپے فی ہزار تک پہنچا دی گئی ہے، جسے شہریوں نے “جنگل کا قانون” قرار دیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ قیمتوں کے تعین کے لیے کوئی مؤثر نگرانی موجود نہیں، جس کے باعث بھٹہ مالکان کھلے عام من مانی کر رہے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں نے تعمیراتی شعبے کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے، جبکہ دیہاڑی دار مزدوروں کے لیے روزگار کے مواقع کم ہوتے جا رہے ہیں۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ چند ماہ میں تعمیراتی سرگرمیاں مزید سست روی کا شکار ہو جائیں گی اور محنت کش طبقہ شدید معاشی بحران کا سامنا کرے گا۔
ضلع جہلم میں بھٹہ مالکان نے اینٹوں کے من مانے نرخ مقرر کر لئے
اہلیان علاقہ نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کا فوری نوٹس لے کر اینٹوں کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
