وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے بجلی کے نرخوں میں کمی کی گئی ہے اور صارفین کو بلوں میں واضح فرق محسوس ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ جن افراد کو بجلی کے بلوں میں کمی نظر نہیں آ رہی، درحقیقت ان کی "آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہے”۔
اویس لغاری نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ نیٹ میٹرنگ کے تحت جو نئے آئی پی پیز (بجلی بنانے والے آزاد ادارے) بن رہے ہیں، ان کی وجہ سے عام صارفین پر فی یونٹ چار روپے کا اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ مسئلہ قابلِ نظر انداز نہیں اور حکومت اس پر غور کر رہی ہے۔
وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ اس وقت ایک کروڑ 80 لاکھ صارفین ایسے ہیں جو 70 فیصد رعایت کے ساتھ بجلی استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، خاص طور پر وہ صارفین جنہوں نے سولر پینل لگا رکھے ہیں، وہ اپنی کھپت کو 200 یونٹ سے نیچے لا کر رعایتی نرخوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اویس لغاری نے اعلان کیا کہ وہاں کے صارفین کو حکومت کی طرف سے ریلیف فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ مشکل حالات میں مزید معاشی بوجھ سے بچ سکیں۔
200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والوں کے لیے قیمت میں 60 فیصد مزید کمی ، اویس لغاری
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی وزارت پر سیاسی بھرتیوں کا کوئی الزام نہیں، بلکہ اختیارات کو اداروں تک منتقل کیا گیا ہے تاکہ وہ خود مختار انداز میں فیصلے لے سکیں۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ حکومت پر تنقید سے پہلے حقائق کو مدِنظر رکھنا چاہیے، کیونکہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کی گئی ہے اور حکومت اس ضمن میں مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔