حالیہ شدید بارشوں اور دریاؤں میں طغیانی کے نتیجے میں کرتارپور راہداری کے مختلف حصے سیلابی پانی کی لپیٹ میں آ گئے تھے۔
تاہم انتظامیہ کی بروقت اور منظم کارروائی کے بعد کرتارپور احاطے سے مکمل طور پر پانی نکال دیا گیا ہے۔ اب درشن ڈیوڑھی، مرکزی چیک پوائنٹ اور استقبالیہ کیبن سمیت تمام اہم مقامات کو پانی سے صاف کر کے دوبارہ قابلِ استعمال بنا دیا گیا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق سیلابی صورتحال کے باعث پارکنگ اسٹینڈ، بازار، مرکزی پارک اور لنگرخانہ بھی زیرِ آب آ گئے تھے، لیکن مسلسل کئی گھنٹوں کی مشینری اور افرادی قوت کی مدد سے ان تمام مقامات کو خشک اور محفوظ بنا دیا گیا ہے۔ صفائی اور جراثیم کش اسپرے کے بعد یہاں معمولاتِ زندگی بحال ہو چکے ہیں۔
منڈی بہاء الدین شدید سیلاب کی لپیٹ میں، متاثرین امداد کے منتظر
زائرین کی سہولت کے لیے زیرو پوائنٹ امیگریشن آفس سے لے کر مرکزی چیک پوائنٹ تک جانے والی مرکزی شاہراہ کو بھی ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ یہ راستہ سیلاب کے باعث بند ہو گیا تھا، جس کے باعث زائرین کو شدید مشکلات کا سامنا تھا۔ سڑک کی بحالی کے بعد اب یاتریوں کی آمد و رفت بحال ہو گئی ہے۔
کرتارپور اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ نے اس بات کی یقین دہانی کروائی ہے کہ آئندہ ایسی کسی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے نکاسیٔ آب کے نظام کو مزید بہتر کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہنگامی ردعمل کی ٹیمیں بھی فعال رہیں گی تاکہ بروقت اقدامات ممکن ہو سکیں۔
دریاؤں میں 38 سال بعد اتنا پانی آیا، آج بڑا ریلا گزرے گا، پی ڈی ایم اے
یاد رہے کہ کرتارپور راہداری سکھ برادری کے لیے ایک مقدس مقام ہے، جو پاکستان اور بھارت کے درمیان واقع ہے۔ گوردوارہ دربار صاحب آنے والے یاتریوں کے لیے یہاں تمام سہولیات دوبارہ بحال کر دی گئی ہیں، اور انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ زائرین اب بلا خوف و خطر اپنی مذہبی رسومات ادا کر سکتے ہیں۔