امریکا میں اس وقت ایک بار پھر ہلچل مچی ہوئی ہے۔ لاکھوں دستاویزات، ہزاروں تصاویر اور ویڈیوز پر مشتمل وہ فائلیں منظرِ عام پر آ رہی ہیں جنہیں دنیا “ایپسٹن فائلز” کے نام سے جانتی ہے۔ یہ وہ مواد ہے جس نے نہ صرف امریکی سیاست بلکہ عالمی طاقت کے ایوانوں میں بھی کھلبلی مچا دی ہے۔ سابق اور موجودہ امریکی صدور، عالمی کاروباری شخصیات، شاہی خاندانوں کے افراد اور بین الاقوامی سیاست کے بڑے نام — سب کسی نہ کسی طور ان فائلز کے سائے میں آ کھڑے ہوئے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ یہ فائلیں موجود کیوں ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ ان میں ایسا کیا ہے جس نے امریکا جیسے طاقتور ملک کو بھی دفاعی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔
جیفری ایپسٹن: ایک عام استاد سے طاقت کے مرکز تک
یہ کہانی شروع ہوتی ہے 1970 کی دہائی کے نیویارک سے، جہاں بروکلین کا ایک عام سا میتھ ٹیچر، جیفری ایپسٹن، آہستہ آہستہ امریکی بزنس کمیونٹی کا جانا پہچانا نام بن جاتا ہے۔ اگلے پندرہ برسوں میں وہ ایک ایسا بزنس ایڈوائزر بن چکا تھا جس تک دنیا کے امیر ترین اور طاقتور ترین لوگوں کی رسائی تھی۔
1980 کی دہائی تک ایپسٹن کروڑوں ڈالرز کا مالک تھا۔ پرائیویٹ جیٹس، یاٹس اور ذاتی جزائر — ایک ایسی پرتعیش زندگی جس کے چرچے دنیا بھر کے ارب پتی حلقوں میں ہونے لگے۔ اس کے نجی جزائر پر ہونے والی محفلیں طاقت، دولت اور عیش و عشرت کی علامت بن چکی تھیں، جہاں عالمی سطح کی مشہور شخصیات کو مدعو کیا جاتا تھا۔
پہلا الزام اور نظام کی خاموشی
2005 میں یہ شاندار پردہ پہلی بار چاک ہوا، جب ایک کم عمر لڑکی نے ایپسٹن پر جنسی استحصال کا الزام عائد کیا۔ پولیس تحقیقات آگے بڑھیں تو ایک کے بعد ایک مزید متاثرہ لڑکیاں سامنے آتی گئیں۔ صرف ایک سال میں درجنوں ایسی خواتین سامنے آئیں جن میں اکثریت 18 سال سے کم عمر تھی۔
ریاستی ادارے ایپسٹن کی طاقت اور اثر و رسوخ سے بخوبی واقف تھے، اسی لیے کیس ایف بی آئی کے حوالے کر دیا گیا۔ مگر حیرت انگیز طور پر 2008 میں، جب 30 سے زائد متاثرہ خواتین اور سینکڑوں گواہان کے ساتھ کیس عدالت میں پہنچا، تو ایپسٹن کو صرف 18 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔ 13 ماہ بعد وہ رہا ہو گیا اور کیس بھی بند کر دیا گیا۔
یہ وہ لمحہ تھا جب انصاف نے طاقت کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے۔
می ٹو تحریک اور ایپسٹن کی واپسی
2017 میں امریکا سے اٹھنے والی #MeToo تحریک نے ایک بار پھر پرانے زخموں کو ہرا کر دیا۔ درجنوں خواتین سامنے آئیں جنہوں نے ایپسٹن پر سنگین الزامات عائد کیے۔ تحقیقاتی صحافی جولی براؤن نے 80 سے زائد متاثرہ خواتین کا ریکارڈ مرتب کیا اور ایک ایک کر کے حقائق سامنے لانے شروع کیے۔
بالآخر 2019 میں، عوامی دباؤ اور ناقابلِ تردید شواہد کے باعث، ایپسٹن کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔ اس بار الزام صرف ذاتی جرائم کا نہیں تھا بلکہ ایک ایسے نیٹ ورک کا تھا جس کے کلائنٹس دنیا کے طاقتور ترین لوگ تھے۔
جیل میں موت اور سازش کے سوالات
گرفتاری کے ایک ماہ بعد ایپسٹن جیل میں مردہ پایا گیا۔ سرکاری طور پر اسے خودکشی قرار دیا گیا، مگر سی سی ٹی وی فوٹیج کا غائب ہونا، کیمروں کا “خراب” ہونا اور ایپسٹن کا سیل میں اکیلا ہونا — یہ سب سوالات آج تک جواب کے منتظر ہیں۔
یہی وہ وقت تھا جب ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے صدر تھے، اور ایپسٹن کے ساتھ ان کے تعلقات پر بھی سوالات اٹھنے لگے۔
ایپسٹن فائلز: اصل خوف کی وجہ
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ایپسٹن خود بھی جانتا تھا کہ جن لوگوں کے راز اس کے پاس ہیں، وہی اس کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ اسی لیے اس نے مبینہ طور پر اپنے طاقتور مہمانوں کی گفتگو، ای میلز، پروازوں کے ریکارڈ، خفیہ کیمروں کی فوٹیج اور دیگر شواہد محفوظ کر رکھے تھے۔
آج جو دستاویزات، تصاویر اور ویڈیوز امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے پبلک کی جا رہی ہیں، کہا جاتا ہے کہ وہ انہی ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں۔
سیاست، وعدے اور ادھورا سچ
اپوزیشن نے ٹرمپ پر دباؤ ڈالا، مگر 2021 میں جو بائیڈن کے اقتدار میں آنے کے بعد معاملہ دب سا گیا۔ دلچسپ موڑ تب آیا جب ٹرمپ نے خود اپوزیشن میں جا کر اعلان کیا کہ دوبارہ صدر بننے پر وہ ایپسٹن کیس کی تمام فائلیں پبلک کریں گے۔
2024 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد ٹرمپ کا لہجہ بدل گیا۔ کبھی معاملے کو غیر اہم قرار دیا گیا، کبھی خاموشی اختیار کی گئی۔ بالآخر سینیٹ کی منظوری کے بعد نومبر میں دستخط ہوئے اور دسمبر میں لاکھوں دستاویزات جاری کی گئیں — مگر نام چھپا دیے گئے۔
عوامی دباؤ بڑھا تو 30 جنوری کو بالآخر تقریباً 30 لاکھ دستاویزات، ہزاروں تصاویر اور ویڈیوز نئے سرے سے پبلک کر دی گئیں۔
انجام نہیں، آغاز؟
ایپسٹن فائلز محض ایک اسکینڈل نہیں، یہ طاقت، سیاست اور انصاف کے گٹھ جوڑ کی عکاس ہیں۔ یہ سوال اب بھی موجود ہے کہ کیا سچ واقعی مکمل طور پر سامنے آ چکا ہے، یا یہ کہانی ابھی مزید موڑ لینے والی ہے؟
ایک بات طے ہے: ایپسٹن مر چکا ہے، مگر اس کے راز اب بھی زندہ ہیں — اور شاید دنیا ابھی ان کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیار نہیں۔
