پیدائش کے فوری بعد بچھڑ جانے والی بچی 28 سال بعد والدین سے ملنے میں کامیاب

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

بیجنگ: انسانی رشتوں کی جدائی اور پھر دہائیوں بعد ملاپ کی ایک ایسی داستان سامنے آئی ہے جس نے دیکھنے والوں کی آنکھیں نم کر دیں۔ چین کے صوبہ جانگشی سے تعلق رکھنے والی 28 سالہ ہونگ یانگ لی، جنہیں پیدائش کے محض ایک دن بعد ان کے سگے دادا نے لاوارث چھوڑ دیا تھا، ڈی این اے ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنے حقیقی والدین سے ملنے میں کامیاب ہو گئی ہیں۔

latest urdu news

جدائی کا المناک پس منظر

ہونگ یانگ لی کی پیدائش 28 سال قبل نان چانگ کے ایک خاندان میں ہوئی تھی۔ وہ اپنے والدین کی تیسری بیٹی تھیں۔ ان کی والدہ، یانگ شیاؤننگ نے بتایا کہ بچی کی پیدائش کے اگلے ہی دن ان کے سسر (بچی کے دادا) نے یہ کہہ کر بچی کو اپنی تحویل میں لیا کہ وہ اسے گھر لے جا کر اس کا خیال رکھیں گے۔

والدہ اس وقت جسمانی طور پر انتہائی کمزور تھیں اور شوہر ملازمت کے سلسلے میں شہر سے باہر تھے، اس لیے انہوں نے سسر کی بات پر یقین کر لیا۔ تاہم، یہ ان کی اپنی بیٹی سے آخری ملاقات ثابت ہوئی۔

تعصب اور سنگدلی کی انتہا

رپورٹ کے مطابق، بچی کے دادا بیٹوں کے خواہش مند تھے اور انہیں لڑکیاں پسند نہیں تھیں۔ انہوں نے نوزائیدہ پوتی کو دوسرے گاؤں کے ایک عوامی بیت الخلا (ٹوائلٹ) میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔ برسوں تک تڑپنے کے باوجود، دادا نے اپنی موت تک خاندان کو یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے بچی کو کہاں چھوڑا تھا۔ بچی کے والد شو لیاؤننگ نے اعتراف کیا کہ وہ زندگی بھر اس پچھتاوے کے ساتھ جیتے رہے لیکن انہوں نے کبھی اپنے والد کے خلاف پولیس سے رجوع نہیں کیا۔

چین سے نیدرلینڈز تک کا سفر

خوش قسمتی سے ایک راہ گیر نے ٹوائلٹ میں پڑی اس بچی کو اٹھایا، دو سال تک اس کی پرورش کی اور پھر اسے ایک مقامی ویلفیئر ہوم کے حوالے کر دیا۔ بعد ازاں، نیدرلینڈز (ہالینڈ) سے تعلق رکھنے والے ایک ڈچ جوڑے نے اسے گود لے لیا اور اسے اپنے ساتھ یورپ لے گئے۔ ڈچ والدین نے ہونگ یانگ لی کی پرورش انتہائی محبت سے کی، مگر ہونگ ہمیشہ اپنے اصل خاندان کی تلاش میں رہیں۔

ڈی این اے ڈیٹا بیس اور جذباتی ملاپ

دسمبر 2024 میں، ہونگ یانگ لی نے اپنا خون کا نمونہ چین کے اس مخصوص ڈیٹا بیس میں جمع کرایا جو گمشدہ بچوں کو ان کے خاندانوں سے ملانے کے لیے کام کرتا ہے۔ پولیس نے ڈی این اے میچنگ کے ذریعے ان کے والدین کا سراغ لگا لیا۔

14 مارچ کو جب ہونگ یانگ لی اپنے آبائی علاقے پہنچیں تو وہاں ایک رقت آمیز منظر تھا۔ ان کے والدین نے پھولوں اور آتشبازی کے ساتھ اپنی بیٹی کا استقبال کیا۔ اگرچہ ہونگ کو چینی زبان نہیں آتی تھی، لیکن خون کے رشتے کی پکار نے انہیں مترجم کے بغیر ہی سب کچھ سمجھا دیا اور وہ اپنے والدین سے لپٹ کر رو پڑیں۔

مستقبل کا فیصلہ

ہونگ کے حقیقی والدین اب نیدرلینڈز جا کر اس ڈچ جوڑے کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے ان کی بیٹی کی بہترین پرورش کی۔ ان کے والد کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کے ہر فیصلے کا احترام کریں گے اور وہ چین یا نیدرلینڈز، جہاں چاہے رہنے کے لیے آزاد ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter