البانیہ سے تعلق رکھنے والی 117 سالہ کامیل مارا اپنی غیر معمولی عمر اور صحت مند طرز زندگی کے باعث توجہ کا مرکز بن گئی ہیں۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق ان کی تاریخ پیدائش 19 اگست 1909 ہے، جس کی بنیاد پر وہ دنیا کی معمر ترین زندہ شخصیت ہونے کا دعویٰ رکھ سکتی ہیں۔ تاہم، ان کی عمر اور عالمی ریکارڈ کی باضابطہ تصدیق ابھی ضروری ہے۔
کامیل مارا نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ایک دیہی گاؤں میں گزارا، جہاں وہ کھیتی باڑی کرتی، پھل اور سبزیاں اگاتی اور مویشیوں کی دیکھ بھال کرتی رہیں۔ 117 سال کی عمر میں بھی ان کی روزمرہ زندگی میں سرگرمی اور سادگی نمایاں ہے۔
خلافت عثمانیہ کے دور میں پیدا ہوئیں
کامیل مارا کی پیدائش ایسے دور میں ہوئی جب خلافت عثمانیہ کا زمانہ تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی میں دنیا کو کئی بڑی تبدیلیوں سے گزرتے دیکھا، جن میں دوسری جنگ عظیم کا اختتام بھی شامل ہے۔ اس وقت ان کی عمر تقریباً 36 سال تھی۔
البانیہ کے ایک گاؤں فیرّاس (Ferras) میں رہنے والی کامیل مارا کے گھر کے قریب ماؤنٹ تومور (Mount Tomorr) واقع ہے، جو ملک کی بلند چوٹیوں میں شمار ہوتا ہے۔ اپنی زندگی اور ماحول کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ زندگی ماؤنٹ تومور میں موسم بہار کی طرح خوبصورت ہے۔
ان کے مطابق، زندگی کی مدت کا تعین خدا کے حکم سے ہوتا ہے۔ ان کے یہ الفاظ ان کے سادہ طرز فکر اور زندگی کے بارے میں مثبت رویے کی عکاسی کرتے ہیں۔
عمر کی تصدیق کے لیے دستاویزات پیش
کامیل مارا کی تاریخ پیدائش 19 اگست 1909 متعدد سرکاری دستاویزات میں درج ہے۔ ان کے اہلخانہ نے ان کی عمر کی تصدیق کے لیے گنیز ورلڈ ریکارڈز سے بھی رابطہ کیا اور مختلف دستاویزات فراہم کیں۔
ان دستاویزات میں 1945 میں جاری ہونے والا برتھ سرٹیفکیٹ، 1975 کا پاسپورٹ اور حالیہ شناختی کارڈ شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان تمام دستاویزات میں ان کی تاریخ پیدائش یکساں درج ہے۔
دنیا کے سب سے معمر اور دوسرے معمر ترین مرد کی سالگرہ ایک ہی دن
انتہائی طویل عمر کے افراد کی عمر کی تصدیق کرنا اکثر مشکل ہوتا ہے، کیونکہ بعض علاقوں میں پرانے سرکاری ریکارڈ مکمل یا آسانی سے دستیاب نہیں ہوتے۔ اسی لیے کسی شخص کو دنیا کی معمر ترین شخصیت قرار دینے سے پہلے دستاویزی شواہد کی جانچ ضروری ہوتی ہے۔
پنشن روک دی گئی، پھر خصوصی ادائیگی کا اعلان
کامیل مارا کی غیر معمولی عمر نے مقامی حکام کو بھی حیران کیا۔ ان کے خاندان کے مطابق، جب وہ 100 سال کی ہوئیں تو حکام نے ان کی پنشن روک دی، کیونکہ انہیں یقین نہیں تھا کہ وہ اب بھی زندہ ہیں۔
ان کے 80 سالہ بیٹے حسن نے بتایا کہ حکام کو اپنی والدہ کے زندہ ہونے کا یقین دلانے کے لیے شواہد پیش کرنا پڑے۔ رپورٹ کے مطابق، اکتوبر 2026 کے آغاز میں حکومت نے ان کے لیے خصوصی ریاستی پنشن جاری کرنے کا اعلان کیا۔
روزمرہ کی سرگرمیاں اور سادہ طرز زندگی
کامیل مارا کی طویل زندگی کے بارے میں سوال کیا جائے تو ان کے معمولات ایک دلچسپ تصویر پیش کرتے ہیں۔ وہ صبح سویرے اٹھ کر گھر کے احاطے کی صفائی کرتی ہیں، پھولوں کو پانی دیتی اور مرغیوں کو دانہ ڈالتی ہیں۔ اس کے بعد کافی پینا ان کے روزمرہ معمول کا حصہ ہے۔
وہ اب بھی اپنے بیٹے کے ساتھ چہل قدمی کرنا پسند کرتی ہیں اور اس دوران انار بھی توڑتی ہیں۔ ان کے بیٹے کے مطابق، ان کی والدہ کی صحت اچھی رہی ہے اور انہیں کبھی ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ تاہم، یہ ان کے بیٹے کا بیان ہے، طبی ریکارڈ کی بنیاد پر تصدیق شدہ نتیجہ نہیں۔
کامیل مارا کے شوہر کا انتقال تقریباً 36 سال قبل ہوا تھا، لیکن وہ آج بھی ان کا ذکر کرتے ہوئے مسکراتی ہیں۔ وہ اپنے خاندان کی پانچ نسلوں کو پروان چڑھتے دیکھ چکی ہیں، جو ان کی طویل زندگی کا ایک غیر معمولی پہلو ہے۔
ان کے پاس تقریباً 100 سال پرانی ایک تصویر بھی موجود ہے، جو اس وقت کھینچی گئی تھی جب ان کی عمر 18 سال تھی۔
کامیل مارا کی کہانی طویل عمر، خاندانی رشتوں اور دیہی زندگی کی سادگی کی ایک منفرد مثال ہے۔ تاہم، انہیں دنیا کی معمر ترین زندہ شخصیت قرار دینے کے لیے متعلقہ عالمی ریکارڈ ادارے کی باضابطہ تصدیق اہم ہوگی۔
