شاہ عبداللطیف یونیورسٹی میں ایل ایل بی کے 1,184 امیدواروں کا تعلیمی ریکارڈ مشکوک قرار

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

سندھ کی شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور نے ایل ایل بی کے 1,184 امیدواروں کے تعلیمی ریکارڈ کو مشکوک قرار دے دیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق انکوائری کمیٹی کی جانب سے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا، جبکہ 64 امیدواروں کی ڈگریوں کا ریکارڈ درست اور قانونی قرار دیا گیا ہے۔

latest urdu news

انکوائری کمیٹی کب تشکیل دی گئی؟

شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق امیدواروں کے تعلیمی ریکارڈ کی چھان بین کے لیے 11 اپریل 2026 کو انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ کمیٹی نے متعلقہ تعلیمی اور انتظامی دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد اپنی رپورٹ مرتب کی۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ جانچ پڑتال کے دوران ایل ایل بی کے مختلف پروگراموں اور بیچز سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کے ریکارڈ میں ایسے معاملات سامنے آئے جن کی بنیاد پر انہیں مشکوک قرار دیا گیا۔

ایل ایل بی کے کن امیدواروں کا ریکارڈ مشکوک ہے؟

یونیورسٹی کے مطابق مشکوک قرار دیے گئے 1,184 امیدواروں میں 658 امیدوار ایل ایل بی کے 3 سالہ پروگرام کے سال 2016، 2017 اور 2018 سے تعلق رکھتے ہیں۔

اسی طرح ایل ایل بی کے 5 سالہ پروگرام کے 2017 کے بیچ سے تعلق رکھنے والے 526 امیدواروں کا ریکارڈ بھی مشکوک قرار دیا گیا ہے۔

دوسری جانب، اعلامیے کے مطابق انکوائری کمیٹی نے 64 امیدواروں کی ڈگریوں کے ریکارڈ کو درست اور قانونی قرار دیا ہے۔

اے آئی دور کے مطابق تعلیمی انقلاب، چینی یونیورسٹیوں نے ہزاروں ڈگری پروگرامز ختم کر دیے

امتحانی ریکارڈ اور مالی دستاویزات کی جانچ

یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انکوائری کمیٹی نے جانچ پڑتال کے دوران امتحانی ریکارڈ، حاضری اور مالی دستاویزات کا جائزہ لیا۔ اعلامیے کے مطابق متنازع ریکارڈ کی بنیاد پر متعلقہ امیدواروں کے نتائج، ٹرانسکرپٹس اور ڈگریوں کو مشکوک قرار دیا گیا ہے۔

تاہم، فراہم کردہ اعلامیے میں انفرادی امیدواروں کے ریکارڈ میں پائی جانے والی بے ضابطگیوں کی مکمل تفصیلات یا ہر امیدوار کے معاملے میں حتمی کارروائی کی وضاحت نہیں کی گئی۔

بار کونسلز اور ایچ ای سی کو فہرستیں ارسال

شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کے مطابق متنازع تعلیمی ریکارڈ رکھنے والے امیدواروں کی فہرستیں متعلقہ بار کونسلز، ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور الحاق شدہ لا کالجز کو ارسال کر دی گئی ہیں۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے مزید بتایا کہ مشکوک ڈگریوں کے حامل امیدواروں کی فہرستیں یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر بھی شائع کر دی گئی ہیں۔

اس پیش رفت کے بعد متعلقہ اداروں کے لیے امیدواروں کے تعلیمی ریکارڈ کی تصدیق اور قواعد کے مطابق آئندہ کارروائی اہم ہوگی۔ تاہم، ریکارڈ مشکوک قرار دیے جانے کو ہر امیدوار کے خلاف جعل سازی ثابت ہونے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا؛ انفرادی معاملات کا حتمی فیصلہ متعلقہ شواہد اور مجاز اداروں کی کارروائی کے مطابق ہوگا۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں