پشاور کے دیر کالونی اسکول واقعے میں شہید ہونے والے بچوں کے اہل خانہ کے لیے ضلعی انتظامیہ نے مالی امداد فراہم کر دی ہے۔ ڈپٹی کمشنر پشاور ڈاکٹر آفاق وزیر نے شہداء کے لواحقین میں مجموعی طور پر 2 کروڑ 10 لاکھ روپے کے امدادی چیک تقسیم کیے ہیں، جبکہ دیگر متاثرہ خاندانوں تک امداد پہنچانے کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔
غمزدہ خاندانوں میں امدادی چیک تقسیم
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر پشاور ڈاکٹر آفاق وزیر نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ وقت گزارا اور شہید بچوں کے والدین کو مالی امداد کے چیک فراہم کیے۔
اس موقع پر متعلقہ افسران اور محکمہ ریونیو کے حکام بھی موجود تھے۔ امدادی رقم کا مقصد سانحے سے متاثر ہونے والے خاندانوں کی مالی مشکلات کم کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔
دیگر لواحقین کو واپسی پر امداد دینے کا اعلان
ڈپٹی کمشنر آفاق وزیر کے مطابق بعض شہداء کے لواحقین اپنے پیاروں کی تدفین کے لیے دوسرے اضلاع میں گئے ہوئے ہیں۔ ایسے خاندانوں کو واپسی پر امدادی چیک فراہم کیے جائیں گے تاکہ کوئی بھی مستحق خاندان امداد سے محروم نہ رہے۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کی تفصیلات کو مدنظر رکھتے ہوئے امدادی عمل مکمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
پشاور میں نجی اسکول کی چھت گر گئی، 21 بچے اور ایک ٹیچر جاں بحق، درجنوں زخمی
زخمی بچوں کی امداد کے لیے فہرستوں کی تصدیق
دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کی ٹیمیں واقعے میں زخمی ہونے والے بچوں کی فہرستوں کی تصدیق کر رہی ہیں۔ حکام کے مطابق اس عمل کا مقصد تمام متاثرہ بچوں کی درست نشاندہی اور امداد کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
انتظامیہ نے زخمی بچوں کو بھی ایک دن کے اندر مالی امداد فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس سلسلے میں متعلقہ ٹیمیں ریکارڈ کی جانچ پڑتال اور ضروری کارروائی مکمل کر رہی ہیں۔
متاثرہ خاندانوں تک امداد پہنچانے کی کوشش
دیر کالونی اسکول واقعے کے بعد شہداء کے لواحقین اور زخمی بچوں کے خاندانوں کی معاونت کے لیے ضلعی انتظامیہ کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ حکام کے مطابق امدادی چیک مرحلہ وار تقسیم کیے جائیں گے تاکہ تمام اہل خاندانوں تک مالی مدد پہنچائی جا سکے۔
امدادی کارروائیوں کی تکمیل کے لیے زخمی بچوں کی فہرستوں کی تصدیق اور دوسرے اضلاع میں موجود لواحقین سے رابطہ اہم مراحل ہیں۔
