امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے میں امریکا شاید کچھ زیادہ آگے بڑھ گیا ہے، جس کے باعث اب یہ سمجھنا مشکل ہو رہا ہے کہ ایران میں مذاکرات کے لیے کس سے رابطہ کیا جائے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران میں کوئی بھی شخص صدر بننے کا خواہش مند نہیں اور ممکنہ امیدوار بھی یہ عہدہ سنبھالنے سے گریز کر رہے ہیں۔
ایرانی قیادت کے بارے میں ٹرمپ کا بیان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کے بعد صورت حال ایسی ہو گئی ہے کہ امریکا کو یہ معلوم کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے کہ ایران میں کس سے بات کی جائے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران میں اب کوئی بھی صدر بننے کے لیے تیار نہیں اور ممکنہ امیدوار بھی اس عہدے کو قبول نہیں کرنا چاہتے۔ تاہم، ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ خبر میں موجود نہیں۔
ایران کی فضائیہ اور بحری بیڑے سے متعلق دعویٰ
ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ایران اپنی پوری فضائیہ اور تمام بحری جہاز کھو چکا ہے۔ ان کے مطابق ایران کے 159 بحری جہاز تباہ ہو چکے ہیں۔
امریکی صدر کے اس بیان میں ایران کی فوجی صلاحیتوں کو پہنچنے والے نقصان پر زور دیا گیا، تاہم فراہم کردہ خبر میں ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق یا ایرانی حکام کا مؤقف شامل نہیں ہے۔
ایران نے امریکا کو شرائط پیش کردیں، ٹرمپ فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں: محسن رضائی
امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں پر سوالات
ٹرمپ کے بیان میں ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں اور ایران کے ساتھ ممکنہ رابطوں کے حوالے سے اہم سوالات سامنے آئے ہیں۔ ان کے مطابق امریکا کے لیے یہ طے کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ ایران میں کس شخصیت سے بات چیت کی جائے۔
تاہم، ایران کی سیاسی قیادت، مذاکراتی رابطوں اور فوجی نقصان سے متعلق صورت حال کی مکمل تصویر سامنے آنے کے لیے دونوں جانب کے بیانات اور آزادانہ طور پر تصدیق شدہ معلومات اہم ہوں گی۔
