لائبہ اعجاز خودکشی کیس: 93 لاکھ روپے کا فراڈ کرنے والا گینگ گرفتار

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد میں مبینہ طور پر خودکشی کرنے والی طالبہ لائبہ اعجاز کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پولیس نے لڑکی کو امریکا میں اعلیٰ تعلیم اور اسکالرشپ دلوانے کا جھانسہ دے کر مبینہ فراڈ کرنے والے گینگ کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان میں نعمان، فاطمہ سرور اور عائزہ شامل ہیں، جبکہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

latest urdu news

امریکی ویزا اور اسکالرشپ کے نام پر مبینہ فراڈ

پولیس کے مطابق، لائبہ اعجاز کو امریکا میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور اسکالرشپ دلوانے کا جھانسہ دیا گیا تھا۔ مقدمے کی ایف آئی آر کے مطابق، ملزمان نے امریکی ویزا اور اسکالرشپ کے نام پر طالبہ سے مبینہ طور پر 93 لاکھ روپے وصول کیے۔

ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزمان نے لائبہ کو جعلی اسکالرشپ دستاویزات، یونیورسٹی کے آفر لیٹرز اور فیس کی رسیدیں بھی فراہم کیں۔ ان دستاویزات کے ذریعے طالبہ کو بیرون ملک تعلیم کے حصول کے حوالے سے یقین دہانی کرائی گئی۔

پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مبینہ فراڈ میں ملوث 3 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ تاہم، مقدمے میں نامزد ملزمان کے خلاف الزامات کی حتمی حیثیت کا تعین تفتیش اور قانونی کارروائی کے بعد ہوگا۔

فراڈ کے بعد لائبہ کی مبینہ خودکشی

رپورٹس کے مطابق، لائبہ اعجاز امریکا میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور اسکالرشپ کے ذریعے اپنے تعلیمی مستقبل کو بہتر بنانے کی خواہش رکھتی تھیں۔ تاہم، بیرون ملک تعلیم کے نام پر مبینہ فراڈ سامنے آنے کے بعد انہیں مالی نقصان اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔

اسلام آباد: مبینہ خودکشی کرنے والی طالبہ گولڈ میڈلسٹ تھی، والد نے پلاٹ بیچ کر ایجنٹ کو رقم دی

اطلاعات کے مطابق، لائبہ نے 9 اکتوبر کو اسلام آباد میں مبینہ طور پر خودکشی کر لی تھی۔ اس واقعے نے بیرون ملک تعلیم اور اسکالرشپ دلوانے کے نام پر ہونے والے فراڈ کے معاملے کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔

پولیس اور ایف آئی اے کی تحقیقات جاری

لائبہ اعجاز کیس میں پولیس اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا مبینہ فراڈ میں گرفتار ملزمان کے علاوہ بھی کوئی افراد ملوث ہیں۔

تحقیقات کے دوران مالی لین دین، مبینہ جعلی دستاویزات اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ معاملے کے تمام پہلوؤں کو سامنے لایا جا سکے۔

یہ واقعہ بیرون ملک تعلیم، ویزا اور اسکالرشپ دلوانے کے نام پر کیے جانے والے دعوؤں کی تصدیق کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ ماہرین کی عمومی ہدایت کے مطابق، طلبہ اور ان کے اہل خانہ کو کسی بھی ایجنٹ یا ادارے کو رقم دینے سے پہلے متعلقہ یونیورسٹی، اسکالرشپ اور ویزا سے متعلق معلومات کی مستند ذرائع سے تصدیق کرنی چاہیے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں