صوابی: خیبر پختونخوا میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ضلع صوابی میں پولیس نے مختلف مقامات پر کارروائیاں کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 56 کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔ دوسری جانب ضلعی انتظامیہ نے 12 اکتوبر سے تمام سرکاری اور نجی اسکول تاحکم ثانی بند رکھنے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔
صوابی میں پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف پولیس کارروائیاں
پولیس حکام کے مطابق پی ٹی آئی کارکن اسماعیلہ انٹرچینج اور رزڑ اسپورٹس کمپلیکس میں جمع ہوئے تھے، جہاں کارروائی کے دوران 56 کارکنوں کو حراست میں لیا گیا۔ پولیس نے شیوہ اڈہ اور اس کے گردونواح سمیت ضلع کے مختلف مقامات پر بھی چھاپے مارے۔
حکام کے مطابق یہ کارروائیاں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کی گئیں۔ تاہم، گرفتار کارکنوں کے خلاف درج مقدمات اور ان پر عائد الزامات کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
سہیل آفریدی کے لانگ مارچ کے باعث سکیورٹی سخت
واضح رہے کہ سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے قافلے کو 12 اکتوبر کی رات صوابی پہنچنا تھا۔ مارچ کے شرکا کی آمد کے پیش نظر ضلع بھر میں سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے تھے۔
انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے مختلف مقامات پر نگرانی بڑھانے کے ساتھ ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے گئے۔
گورنر خیبر پختونخوا کی زیر صدارت سکیورٹی اجلاس، پولیس اور سی ٹی ڈی مضبوط بنانے کا فیصلہ
موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس متاثر
صوابی میں سکیورٹی انتظامات کے دوران موبائل فون نیٹ ورکس اور انٹرنیٹ سروس کی بندش سے شہریوں کو معمول کے مواصلاتی رابطوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مواصلاتی سروسز متاثر ہونے کے باعث شہریوں کے لیے ایک دوسرے سے رابطہ کرنے اور روزمرہ امور انجام دینے میں دشواری پیدا ہونے کی اطلاعات ہیں۔
صوابی میں تمام اسکول تاحکم ثانی بند
دوسری جانب ضلعی انتظامیہ نے ضلع صوابی کے تمام سرکاری اور نجی اسکول 12 اکتوبر سے تاحکم ثانی بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر کی ہدایات پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس کی جانب سے اس حوالے سے اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔ اعلامیے میں تمام سرکاری اور نجی اسکولوں کے سربراہان کو احکامات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
صوابی میں پولیس کارروائیوں، سکیورٹی انتظامات اور تعلیمی اداروں کی بندش کے باعث ضلع کی صورتحال پر توجہ مرکوز ہے، جبکہ شہریوں کو معمولات زندگی میں مختلف مشکلات کا سامنا ہے۔
