ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں قانون سازی کا ڈیڈلاک ختم، 30 بلوں پر اتفاق

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان قانون سازی کے معاملے پر جاری ڈیڈلاک ختم ہوگیا ہے اور دونوں جماعتوں نے پارلیمانی امور کو آگے بڑھانے کے لیے اہم اتفاق رائے کرلیا ہے۔

latest urdu news

ذرائع کے مطابق دونوں اتحادی جماعتوں نے انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی قائم کرنے کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف کی شرائط سے متعلق بلوں سمیت مجموعی طور پر 30 مختلف بلوں کی منظوری پر اتفاق کیا ہے۔

انتخابی اصلاحات کیلئے پارلیمانی کمیٹی بنانے کا فیصلہ

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی کے قیام پر اتفاق ہوگیا ہے۔

کمیٹی کی چیئرمین شپ پیپلز پارٹی کو دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ پارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کو اس کمیٹی میں نمائندگی دی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی میں ارکان کی شمولیت دونوں ایوانوں میں سیاسی جماعتوں کی پارلیمانی طاقت کے تناسب سے کی جائے گی۔ اس طرح انتخابی اصلاحات کے معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں کو مشاورت کے عمل میں شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

30 بلوں کی منظوری پر بھی اتفاق

ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان قانون سازی کے حوالے سے ہونے والے اتفاق کا ایک اہم حصہ 30 مختلف بلوں کی منظوری بھی ہے۔

ذرائع کے مطابق ان بلوں میں آئی ایم ایف سے متعلق شرائط اور اصلاحات کی بنیاد پر تیار کیے گئے بل بھی شامل ہیں۔ دونوں جماعتوں کے درمیان ان قانون سازی کے معاملات کو آگے بڑھانے پر اتفاق ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اقتصادی جائزے کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

آئی ایم ایف نے 8 اکتوبر 2026 کو پاکستان کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے کا اعلان کیا، جس کے نتیجے میں تقریباً 1.21 ارب ڈالر کی مالی معاونت کی راہ ہموار ہوئی ہے، تاہم رقم کا اجرا ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے۔

آئی ایم ایف کے مطالبے پر سرکاری ملازمین کے اثاثےپبلک کرنے سے متعلق قانون سازی کرچکے: وزیر خزانہ

قانون سازی میں تعاون کا راستہ کھل گیا

ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان قانون سازی پر اختلافات کے باعث بعض اہم پارلیمانی معاملات آگے بڑھنے میں رکاوٹ کا سامنا تھا۔ اب دونوں جماعتوں کے درمیان ہونے والے اتفاق کے بعد قانون سازی کا عمل آگے بڑھنے کی توقع ہے۔

انتخابی اصلاحات کے لیے کمیٹی کا قیام بھی اسی مفاہمتی عمل کا حصہ ہے، جس میں پارلیمان کی تمام جماعتوں کو شامل کرنے کی بات کی گئی ہے۔

اب کمیٹی کی تشکیل، ارکان کے نام اور قانون سازی سے متعلق آئندہ مراحل اہم ہوں گے۔ قومی اسمبلی کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق پارلیمانی کمیٹیوں کا اجلاس اور قانون سازی سے متعلق سرگرمیاں جاری ہیں، جبکہ مختلف قائمہ کمیٹیاں اپنے متعلقہ امور پر کام کر رہی ہیں۔

یوں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان قانون سازی کے معاملے پر پیدا ہونے والا ڈیڈلاک ختم ہونے کے بعد نہ صرف انتخابی اصلاحات پر پارلیمانی مشاورت کا راستہ کھلا ہے بلکہ آئی ایم ایف سے متعلق قانون سازی سمیت دیگر اہم بلوں کو بھی آگے بڑھانے پر اتفاق ہوگیا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں