مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، ریاست کو یرغمال بناکر مطالبات نہیں منوائے جاسکتے: رانا ثنا

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلافات کا حل مذاکرات ہیں، پی ٹی آئی ذاتی مفادات کو قومی مفاد پر ترجیح نہ دے

وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، تاہم ریاست کو دباؤ میں لاکر یا یرغمال بناکر کسی مطالبے کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔

latest urdu news

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سیاسی اختلافات کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی نکالا جاسکتا ہے اور پی ٹی آئی کو ذاتی سیاسی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مسائل کے حل کے لیے بات چیت کی طرف آنا چاہیے۔ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان حالیہ دنوں میں مذاکرات کے مختلف ادوار بھی ہوئے ہیں، تاہم اہم معاملات پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔

2014 سے سیاسی عدم استحکام کا مؤقف

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کا سلسلہ 2014 سے جاری ہے اور ان کے بقول اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ اور دارالحکومت کا گھیراؤ پی ٹی آئی کی سیاست کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی ایک بار پھر اسلام آباد کی طرف مارچ کی کوشش کر رہی ہے اور اس کا مقصد ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ قومی مفاد پر ذاتی مفاد کو ترجیح دینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ان کے مطابق مذاکرات کے عمل میں پیدا ہونے والے ڈیڈلاک کو بھی درست تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

ریاست کو یرغمال بناکر مطالبات نہیں منوائے جاسکتے

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ احتجاج اور سیاسی سرگرمی ہر سیاسی جماعت کا معاملہ ہوسکتا ہے، لیکن ریاستی نظام کو دباؤ میں لاکر مطالبات منوانے کی کوشش قابل قبول نہیں ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ 4 اکتوبر سے شروع ہونے والی سرگرمی کے دوران اب تک چند ہزار افراد ہی جمع ہوسکے ہیں، اس لیے ریاست کو یرغمال بناکر کسی بھی مطالبے کو منوانا ممکن نہیں۔

حکومت پہلے بھی یہ مؤقف دے چکی ہے کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی، تاہم دہشت گردی کے خلاف تعاون کی صورت میں مذاکرات کا راستہ کھلا رہنے کی بات بھی کی گئی ہے۔

مارچ اور دھرنے ختم کریں گے تو آپ کے ساتھ بات ہوگی، وزیراعظم کی ایک بار پھر پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیشکش

خیبرپختونخوا کے وسائل کے استعمال کا الزام

رانا ثنا اللہ نے پی ٹی آئی پر خیبرپختونخوا حکومت کے سرکاری وسائل کو سیاسی سرگرمی کے لیے استعمال کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن قومی سلامتی اور دہشت گردی جیسے معاملات پر سیاسی جماعتوں کو ریاستی اداروں اور وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری رہیں گے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کسٹمز اور پولیس کے شہدا کسی ایک سیاسی جماعت یا صوبے سے تعلق نہیں رکھتے، بلکہ وہ ملک کے لیے جانیں قربان کرتے ہیں۔

افغانستان سے متعلق پالیسی پر بھی بات

افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ حکومت نے افغان حکام سے واضح طور پر کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ افغانستان سے متعلق ریاستی پالیسی پر ملک میں وسیع اتفاق رائے موجود ہے اور صرف پی ٹی آئی اس پالیسی سے متفق نہیں۔

رانا ثنا اللہ نے ایک بار پھر مذاکرات کو سیاسی اختلافات کے حل کا راستہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے گئے۔ تاہم ان کے مطابق مذاکرات کے لیے سیاسی جماعتوں کو دباؤ اور تصادم کے بجائے سنجیدہ بات چیت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں