وزارت اطلاعات و نشریات نے مکہ معاہدے سے متعلق ایک غیر ملکی خبر ایجنسی کی رپورٹس کو قیاس آرائیوں پر مبنی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ وزارت نے عوام اور میڈیا سے غیر مصدقہ اطلاعات پر انحصار نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
مکہ معاہدے سے متعلق رپورٹس قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں
اسلام آباد میں وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مکہ معاہدے کے حوالے سے غیر ملکی خبر ایجنسی کی جانب سے شائع کی جانے والی رپورٹس قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔
وزارت اطلاعات کے مطابق معاہدے سے متعلق ایسی معلومات جن کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی، ان پر انحصار کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔
وزارت نے واضح کیا کہ سعودی عرب کے دفاع کے حوالے سے پاکستان کا عزم واضح اور ناقابلِ سمجھوتہ ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے معاملے میں پاکستان اپنے عزم پر قائم ہے۔
مشترکہ دفاع کی تفصیلات عملیاتی رازداری کا معاملہ ہیں
وزارت اطلاعات نے کہا کہ مشترکہ دفاع سے متعلق عملیاتی تفصیلات حساس نوعیت کی ہیں اور انہیں عملیاتی رازداری کے دائرے میں رکھا جاتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ دفاعی تعاون اور مشترکہ دفاع سے متعلق مخصوص انتظامات یا عملی طریقہ کار کے بارے میں تفصیلات کا انکشاف کرنا مناسب نہیں، کیونکہ اس نوعیت کے معاملات قومی سلامتی اور دفاعی حکمت عملی سے براہ راست متعلق ہوتے ہیں۔
وزارت کے مطابق مکہ معاہدے کے حوالے سے مختلف دعووں اور اعداد و شمار کے بجائے سرکاری طور پر جاری کردہ معلومات کو ہی قابلِ اعتماد سمجھا جانا چاہیے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کا دفاعی معاہدہ، اسرائیل نے خطرناک پیشرفت قرار دے دیا
غیر مصدقہ اور گمنام ذرائع سے متعلق انتباہ
وزارت اطلاعات نے غیر مصدقہ اور گمنام ذرائع کی بنیاد پر سامنے آنے والی قیاس آرائیوں سے گریز کرنے پر زور دیا۔
وزارت کے بیان کے مطابق من گھڑت یا غیر مصدقہ اعداد و شمار کی بنیاد پر رائے قائم کرنے کے بجائے متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کیے جانے والے سرکاری بیانات کو ترجیح دینی چاہیے۔
وزارت اطلاعات نے کہا کہ مکہ معاہدے سے متعلق معلومات کی درست تفہیم کے لیے سرکاری ذرائع سے حاصل ہونے والی تصدیق شدہ معلومات پر انحصار ضروری ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات
وزارت اطلاعات نے اپنے بیان میں ایک بار پھر سعودی عرب کے دفاع کے حوالے سے پاکستان کے واضح عزم کا اعادہ کیا۔ بیان کے مطابق سعودی عرب کے دفاع سے متعلق پاکستان کی پالیسی میں کوئی ابہام نہیں اور اس حوالے سے عزم ناقابلِ سمجھوتہ ہے۔
تاہم مشترکہ دفاع سے متعلق آپریشنل نوعیت کی تفصیلات کو حساس قرار دیتے ہوئے وزارت نے کہا کہ ان معاملات سے متعلق غیر مصدقہ رپورٹس اور قیاس آرائیوں سے گریز کیا جانا چاہیے۔
وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ مکہ معاہدے کے حوالے سے درست معلومات کے لیے سرکاری بیانات اور مستند ذرائع کو ہی بنیاد بنایا جائے۔
