ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ ضمانت کیس، ریکارڈ پیش نہ ہونے پر جج برہم، ڈی ایس پی کی سرزنش

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران کیس کا ریکارڈ پیش نہ کیے جانے پر جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے پولیس حکام پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور ڈی ایس پی کو کمرہ عدالت میں طلب کرلیا۔

latest urdu news

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی درخواست ضمانت پر سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے کی۔ کارروائی کے دوران تفتیشی افسر کی عدم موجودگی اور کیس کا ریکارڈ عدالت میں پیش نہ کیے جانے پر جج نے شدید ناراضی کا اظہار کیا۔

وکیل صفائی ریاست علی نے عدالت کو بتایا کہ وہ درخواست ضمانت پر تفصیلی دلائل دینے کے لیے تیار ہیں، جس پر جج نے تفتیشی افسر کے بارے میں استفسار کیا۔ عدالتی عملے نے بتایا کہ تفتیشی افسر شہر سے باہر ہیں۔

تفتیشی افسر کی غیر حاضری پر جج کا اظہار برہمی

تفتیشی افسر کے عدالت میں موجود نہ ہونے پر جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے سوال کیا کہ تفتیشی افسر کہاں اور کس وجہ سے شہر سے باہر ہیں۔ انہوں نے ڈی ایس پی کو فوری طور پر عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ صرف زبانی وضاحت کافی نہیں ہوگی بلکہ متعلقہ ریکارڈ اور دستاویزات عدالت کے سامنے پیش کرنا ہوں گی۔

عدالت نے سکیورٹی انچارج کو بھی طلب کیا، جبکہ جج کی جانب سے ہتھکڑی منگوانے کی ہدایت بھی کی گئی۔

ڈی ایس پی عدالت میں پیش ہوئے تو جج نے ان سے کیس کا ریکارڈ طلب کیا۔ ڈی ایس پی کی جانب سے انگریزی میں جواب دیے جانے پر جج نے انہیں اردو میں بات کرنے کی ہدایت کی۔

ڈی ایس پی سے کیس کا اصل ریکارڈ طلب

ڈی ایس پی نے عدالت کو بتایا کہ ان کی معلومات کے مطابق تفتیشی افسر شہر سے باہر ہیں۔ اس پر جج نے سوال کیا کہ وہ مکمل ریکارڈ کے بغیر عدالت میں کیسے پیش ہوئے۔

ڈی ایس پی نے عدالت سے کچھ وقت دینے کی درخواست کی تاکہ وہ صورتحال کے بارے میں معلومات فراہم کرسکیں۔ اس پر جج نے واضح کیا کہ عدالت کو زبانی باتوں کے بجائے ریکارڈ پر ثبوت درکار ہیں۔

سپریم کورٹ کی ہدایت، اسلام آباد ہائیکورٹ ایمان مزاری کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ کرے

سماعت کے دوران جج نے پولیس حکام کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ ہوا تو ڈی ایس پی اور ایس پی کو بھی 6 ماہ تک جیل بھیجنے کا حکم دیا جاسکتا ہے۔ جج نے پولیس حکام کے طرزِ عمل پر سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کے سامنے ضروری ریکارڈ پیش کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔

واٹس ایپ پیغام کا پرنٹ عدالت میں پیش

ڈی ایس پی نے بعد میں بتایا کہ تفتیشی افسر گلگت بلتستان گیا ہوا ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے تفتیشی افسر سے واٹس ایپ پر ہونے والی گفتگو کی ایک کاپی کا پرنٹ عدالت میں پیش کیا۔

تاہم عدالت نے واٹس ایپ گفتگو کے پرنٹ کو ریکارڈ کا متبادل تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے ڈی ایس پی کو اصل دستاویزات عدالت کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی۔

عدالت نے ڈی ایس پی کو کچھ دیر کے لیے کٹہرے میں کھڑے رہنے کا حکم بھی دیا۔

ڈی ایس پی کو عدالت سے باہر نہ جانے دینے کی ہدایت

سماعت کے دوران جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے سکیورٹی انچارج کو ہدایت کی کہ فیصلے تک ڈی ایس پی کو عدالت سے باہر نہ جانے دیا جائے۔ انہوں نے گیٹ پر موجود اہلکاروں کو بھی ہدایت دینے کا کہا کہ ڈی ایس پی عدالت سے باہر نہ جائیں۔

جج نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے پاس اپنے احکامات پر فوری عمل درآمد کرانے کے لیے جوڈیشل فورس ہونی چاہیے۔ انہوں نے عدالتی نظام کے حوالے سے بھی سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ یہاں پرانا نظام چل رہا ہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے پولیس سے کیس کا اصل ریکارڈ فوری طور پر پیش کرنے پر زور دیا، جبکہ درخواست ضمانت پر حتمی کارروائی ریکارڈ کی دستیابی اور قانونی تقاضے پورے ہونے سے مشروط رہی۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter