ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے معاملے پر امریکا کے سامنے متعدد مطالبات پیش کردیے ہیں، جن میں بحری ناکہ بندی کے خاتمے اور ایرانی تیل پر عائد پابندیاں ختم کرنا شامل ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور مرکزی مذاکرات کار باقر قالیباف نے واشنگٹن کے سامنے مطالبات کی فہرست پیش کی ہے۔ ان مطالبات میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں طے کیے گئے نکات پر مکمل عمل درآمد بھی شامل ہے، جس کی مدت دو روز قبل ختم ہوچکی ہے۔
ایرانی مؤقف کے مطابق امریکا کو خطے میں جاری بحری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کرنا ہوگی اور ایرانی تیل پر عائد تمام پابندیاں بھی اٹھانا ہوں گی۔
ایران نے امریکا میں منجمد اپنے اثاثوں کی غیر مشروط بحالی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے بغیر آبنائے ہرمز کو کھولنے کے معاملے پر پیش رفت ممکن نہیں۔
باقر قالیباف نے ایران کی اندرونی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ملک میں انتشار اور اختلافات سے بیرونی دشمنوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے ایرانی عوام پر قومی اتحاد برقرار رکھنے پر زور دیا۔
آبنائے ہرمز کا ’نیا نقشہ‘ شیئر کرنے پر ٹرمپ کا مذاق بن گیا
رپورٹ کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں امریکا اور ایران نے مختلف محاذوں پر فوجی کارروائیاں روکنے، ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار حاصل یا تیار نہ کرنے اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے سے متعلق اتفاق کیا تھا۔
مذکورہ مفاہمتی فریم ورک کے تحت امریکا کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے، اقتصادی پابندیاں اٹھانے، منجمد ایرانی اثاثے بحال کرنے اور ایران کی تعمیر نو کے لیے منصوبہ شروع کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی گئی تھی۔
تاہم مفاہمتی یادداشت کی مدت ختم ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کی صورتحال ایک مرتبہ پھر امریکا اور ایران کے درمیان اہم تنازع بن گئی ہے۔
