پاک افغان سرحد پر افغان طالبان اور “فتنہ الخوارج” کی جانب سے مبینہ بلا اشتعال جارحیت کے بعد پاک فوج نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے متعدد سرحدی چوکیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں دفاعِ وطن کے تحت جاری آپریشن کا حصہ ہیں۔
پاک فوج کی جوابی کارروائی
سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج نے چمن سیکٹر میں کارروائی کرتے ہوئے افغان طالبان کی متعدد چوکیوں کو کامیابی سے تباہ کیا۔
اطلاعات کے مطابق سرحدی علاقوں میں موجود بعض تنصیبات اور پوسٹس کو بھی نشانہ بنایا گیا، جن میں سرشان، المرجان، ایدھی پوسٹ اور گاڑی پوسٹ شامل ہیں۔
آپریشن کی تفصیلات
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں “آپریشن غضب للحق” کے تحت کی جا رہی ہیں، جو کہ سرحدی علاقوں میں کسی بھی جارحیت کے جواب میں جاری رکھا جا رہا ہے۔
سکیورٹی حکام کے مطابق آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام مقررہ اہداف حاصل نہیں ہو جاتے۔
سکیورٹی فورسز کا مؤقف
سکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ پاک فوج کا دفاعِ وطن کے لیے عزم غیر متزلزل ہے اور کسی بھی جارحیت یا دہشت گردی کے عزائم کو ناکام بنایا جائے گا۔
ان کے مطابق ریاست پاکستان اپنی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر مؤثر اور فوری ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
افغان سرحد پر پاکستان کی مؤثر کارروائی، طالبان کے ٹینک اور پوسٹس تباہ
حکومتی ردعمل
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سرحدی صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے افغان طالبان اور مبینہ فتنہ الخوارج کی بلا اشتعال کارروائی کی مذمت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے جس انداز میں فوری اور مؤثر جواب دیا ہے وہ قابلِ تحسین ہے اور یہ پیغام واضح ہے کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
مجموعی صورتحال
پاک افغان سرحد پر حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر سرحدی سکیورٹی کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق صورتحال پر مکمل نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے فورسز الرٹ ہیں۔
