مالی میں بحران شدت اختیار کر گیا: وزیرِ دفاع ہلاک، فوج اور باغیوں میں شدید جھڑپیں

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

مغربی افریقہ کے ملک مالی میں سیکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے، جہاں باغیوں کے ایک بڑے حملے میں وزیرِ دفاع کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اس واقعے کے بعد ملک کے مختلف علاقوں میں فوج اور باغیوں کے درمیان جھڑپیں دوسرے روز بھی جاری رہیں، جس سے خطے میں عدم استحکام مزید بڑھ گیا ہے۔

latest urdu news

وزیرِ دفاع کی ہلاکت اور حملے کی تفصیلات

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق مالی کے وزیرِ دفاع ساديو کامارا ایک کار بم حملے میں جاں بحق ہو گئے۔ یہ حملہ دارالحکومت باماکو کے قریب واقع فوجی حکومت کے اہم علاقے کاتی میں ان کی رہائش گاہ پر کیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق اس حملے میں وزیرِ دفاع کے ساتھ ان کی اہلیہ اور دو پوتے بھی ہلاک ہوئے۔ مقامی ذرائع اور اہلِ خانہ نے واقعے کی تصدیق کی ہے، تاہم حکام کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں۔

باغیوں کے منظم حملے

یہ حملے طوارق باغیوں کے اتحاد ایف ایل اے اور شدت پسند گروہ جے این آئی ایم کی جانب سے کیے گئے، جنہوں نے ایک منظم کارروائی کے تحت مختلف فوجی اور اسٹریٹجک مقامات کو نشانہ بنایا۔

حملوں کے بعد ملک کے کئی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز اور باغیوں کے درمیان شدید جھڑپیں شروع ہو گئیں، جو تاحال جاری ہیں۔

کدال شہر پر دعویٰ اور روسی افواج کی صورتحال

رپورٹس کے مطابق طوارق باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے شمالی شہر کدال پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اس شہر کو مالی میں باغیوں کا ایک اہم گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

باغیوں کے مطابق ایک معاہدے کے تحت مالی کی فوج کی حمایت کرنے والی روسی نیم فوجی افواج کو شہر سے انخلا کی اجازت دی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق فوجی اہلکار ایک مخصوص کیمپ میں محصور تھے جنہیں بعد ازاں وہاں سے نکلنے کی اجازت دی گئی۔

کدال کی اسٹریٹجک اہمیت

کدال شہر طویل عرصے سے مالی میں تنازع کا مرکز رہا ہے۔ نومبر 2023 میں یہ شہر مالی کی فوج نے روسی ویگنر گروپ کی مدد سے دوبارہ حاصل کیا تھا، تاہم موجودہ صورتحال نے ایک بار پھر اس علاقے کو تنازع کا مرکز بنا دیا ہے۔

مالی میں جاری یہ تازہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ملک میں سیکیورٹی بحران مزید پیچیدہ ہو رہا ہے۔ وزیرِ دفاع کی ہلاکت اور اہم شہروں پر کنٹرول کے دعووں نے صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے، جبکہ مستقبل قریب میں امن کے امکانات غیر یقینی دکھائی دیتے ہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter