پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے تحت کھلی فضا میں ڈرون اُڑانے پر پابندی برقرار رکھتے ہوئے اس میں مزید 30 روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ پابندی سکیورٹی خدشات کے پیش نظر عائد کی گئی ہے اور اب اس کا اطلاق 25 مئی تک جاری رہے گا۔
حکام کے مطابق حالیہ سکیورٹی صورتحال اور حساس مقامات کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔
انڈور تقریبات کے لیے جزوی اجازت
اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ شادی ہالز اور مارکیز کے اندر منعقد ہونے والی تقریبات میں چھوٹے ڈرون کے محدود استعمال کی اجازت دی گئی ہے۔ تاہم اس اجازت کے ساتھ سخت شرائط بھی عائد کی گئی ہیں۔
منتظمین کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ انڈور ڈرون کے استعمال کو محفوظ اور ذمہ دارانہ بنائیں، اور اس دوران کسی بھی حادثے یا نقصان کی صورت میں مکمل ذمہ داری انہی پر عائد ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد تقریبات کے دوران جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور سکیورٹی کے تقاضوں کے درمیان توازن قائم رکھنا ہے۔
کن اداروں کو استثنیٰ حاصل ہے؟
محکمہ داخلہ کے اعلامیے کے مطابق انٹیلی جنس اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ یہ ادارے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے تحت ڈرون کا استعمال جاری رکھ سکیں گے، خصوصاً نگرانی، سکیورٹی اور دیگر آپریشنل امور کے لیے۔
سکیورٹی تناظر اور پس منظر
گزشتہ چند برسوں میں ڈرون ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال نے جہاں کئی شعبوں میں آسانیاں پیدا کی ہیں، وہیں سکیورٹی کے نئے چیلنجز بھی سامنے آئے ہیں۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں حساس مقامات، عوامی اجتماعات اور سرکاری تقریبات کے دوران ڈرون کے ممکنہ غلط استعمال کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
اسی تناظر میں پنجاب حکومت نے احتیاطی تدابیر کے طور پر اس پابندی کو برقرار رکھا ہے تاکہ عوامی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی غیر متوقع صورتحال سے بچا جا سکے۔
پنجاب میں ڈرون کے استعمال پر عائد یہ پابندی سکیورٹی کو ترجیح دینے کی حکومتی پالیسی کی عکاسی کرتی ہے۔ آئندہ دنوں میں سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لے کر اس پابندی میں مزید توسیع یا نرمی کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے، تاہم فی الحال عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان احکامات پر سختی سے عمل کریں۔
