امریکی صدر Donald Trump نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو کھولنے کا خواہاں ہے تاکہ یومیہ تقریباً 500 ملین ڈالر کی آمدن حاصل کر سکے، جو بندش کے باعث اسے نقصان کی صورت میں برداشت کرنا پڑ رہی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران درحقیقت ہرمز کی بندش نہیں چاہتا، جبکہ امریکا نے اس اہم بحری گزرگاہ پر مکمل ناکہ بندی قائم کر رکھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت محض سیاسی دباؤ سے بچنے کے لیے بندش کی حمایت ظاہر کر رہی ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ حالیہ دنوں میں انہیں پیغامات موصول ہوئے جن میں کہا گیا کہ ایران ہرمز کو کھلوانا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا ناکہ بندی ختم کر دے تو ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے امکانات متاثر ہو سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز سب کے لیے کھلی ہونی چاہیے، یو اے ای کا مؤقف
دوسری جانب اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب Amir Saeid Iravani نے عندیہ دیا ہے کہ امریکا کی جانب سے ناکہ بندی ختم کرنے کے کچھ اشارے ملے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر پابندیاں ختم کی جاتی ہیں تو ایران اسلام آباد میں متوقع مذاکرات میں شرکت پر آمادہ ہو سکتا ہے۔
ایرانی مؤقف کے مطابق ناکہ بندی کا خاتمہ ہی مذاکرات کی بحالی کے لیے بنیادی شرط ہے، جبکہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر سفارتی کوششیں بھی تیز ہو رہی ہیں۔
