روس کی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ اور سابق صدر نے خبردار کیا ہے کہ اگر ٹرمپ نے ایران میں حکومت کی تبدیلی کی کوششوں کا راستہ ترک نہ کیا تو اس کے نتیجے میں تیسری عالمی جنگ چھڑ سکتی ہے۔
ایک انٹرویو میں میدودیف کا کہنا تھا کہ ایران امریکی اور اسرائیلی حملوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم ان حملوں نے ایرانی قوم کو مزید متحد کر دیا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ کشیدگی ایران کو جوہری صلاحیت کے حصول کی جانب زیادہ تیزی سے بڑھنے پر آمادہ کر سکتی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس جنگ کے باعث امریکا اور اسرائیل نے اپنے ہی شہریوں کو زیادہ خطرات سے دوچار کیا ہے، اور یہ تنازع دراصل عالمی سطح پر غلبہ برقرار رکھنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
ایرانی جوہری تنصیبات کو نقصان کی تصدیق نہیں:انٹرنیشنل اٹامک انجری
روسی رہنما نے مزید کہا کہ اگر ایران میں رجیم چینج کی پالیسی جاری رہی تو کسی بھی معمولی واقعے سے بڑے عالمی تصادم کا آغاز ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یورپی قیادت پر بھی سخت تنقید کی اور متنبہ کیا کہ جوہری تصادم کی صورت میں نتائج انتہائی تباہ کن ہوں گے۔
عالمی سفارتی حلقوں میں اس بیان کو خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
