پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے پشاور ہائیکورٹ کے حکم پر صوبے کی بند سڑکیں کھولنے سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرائی ہے۔
عدالت میں پیشرفت
سڑکوں کی بندش کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل اور پولیس حکام عدالت میں پیش ہوئے۔ ایڈووکیٹ جنرل پختونخوا نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ہائیکورٹ کے حکم کے مطابق آئی جی نے تمام اضلاع میں سڑکیں کھولنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں اور پولیس کو قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت دی گئی ہے۔
درخواست گزار کا موقف
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سڑک کی بندش کی وجہ سے ایک خاتون کی جان گئی، جس کا مقدمہ درج کیا جائے۔ عدالت نے اس پر ریمارکس دیے کہ ابھی تک ہمارے سامنے ایسی کوئی شکایت نہیں آئی، مگر اگر آتی ہے تو احکامات دیے جائیں گے۔
پارلیمنٹ میں دھرنا ختم: علامہ راجہ ناصر عباس کا اعلان اور عمران خان کی صحت پر مؤقف
عدالت کے ریمارکس اور ٹریفک کی صورتحال
جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ پشاور میں ٹریفک نظام بہت خراب ہے اور کبھی وکلا، کبھی تاجر یا دیگر افراد خیبر روڈ بند کر دیتے ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ ٹریفک ماسٹر پلان بنایا جا رہا ہے اور سیف سٹی پراجیکٹ پر کام جاری ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کی صورتحال سے بچا جا سکے۔
فاضل جج نے مزید کہا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت سزائیں دی جائیں تاکہ لوگ قانون پر عمل درآمد کریں اور شہر میں ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنایا جا سکے۔
عدالت کا فیصلہ
رپورٹ جمع ہونے کے بعد پشاور ہائیکورٹ نے سڑکوں کی بندش سے متعلق درخواست کو نمٹا دیا۔ اس موقع پر واضح کیا گیا کہ صوبائی حکومت اور پولیس افسران کو ہدایت ہے کہ آئندہ ایسے اقدامات فوری طور پر اٹھائیں اور عوامی راستوں کی بندش سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اس اقدام کے بعد پشاور اور دیگر اضلاع میں ٹریفک کی روانی بحال ہو گئی ہے، جبکہ ٹریفک نظام کی بہتری کے لیے مزید اقدامات جاری رہیں گے۔
