پاکستان کرکٹ ٹیم سے بھارتی کھلاڑیوں کے ہاتھ نہ ملانے کے فیصلے پر مختلف صحافیوں نے شدید تنقید کی ہے اور اسے کھیل کی روح کے منافی قرار دیا ہے۔
بھارتی ٹاک شو میں شریک بھارتی نژاد برطانوی صحافی اور مصنف Mihir Bose اور بھارتی اسپورٹس جرنلسٹ ایاز میمن نے اس اقدام پر برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کا ہاتھ نہ ملانا کھیل کی بنیادی روح کے خلاف ہے، جس میں باہمی احترام اور کھیل کے اخلاق کو مقدم رکھا جاتا ہے۔
Mihir Bose کا مؤقف
Mihir Bose نے کہا کہ بھارتی کھلاڑیوں کا پاکستانی ٹیم سے ہاتھ نہ ملانا نہ صرف کھیل کی روایات کے خلاف ہے بلکہ ایک عالمی طاقت بننے کے دعوے کے باوجود بھارتی رویے کی نااہلی اور نادانی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ ان کے مطابق، عالمی سطح پر اعتماد اور وقار کے لیے کھیل کے اصولوں کا احترام کرنا ضروری ہے، اور اس طرح کے اقدامات سے ملک کی شبیہ متاثر ہو سکتی ہے۔
ایاز میمن کی رائے
بھارتی صحافی ایاز میمن نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ بھارتی کرکٹ بورڈ نے خود نہیں کیا بلکہ حکومت کے دباؤ پر لیا گیا۔ ان کے مطابق، بورڈ کی آزادی پر سوال اٹھتا ہے کیونکہ کھیل کو سیاسی دباؤ سے الگ رکھنا چاہیے۔ ایاز میمن نے کہا کہ کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے جو دوستی، احترام اور باہمی تعلقات کو فروغ دینے کا ذریعہ ہے، اور ہاتھ نہ ملانا اس روح کے خلاف ہے۔
بھارتی کرکٹ میں ہینڈ شیک تنازع: سنجے منجریکر بھی بول پڑے
کھیل کی روح اور بین الاقوامی تعلقات
ماہرین کے مطابق کرکٹ جیسے کھیل میں کھلاڑیوں کے باہمی تعلقات اور احترام کی فضا برقرار رکھنا بہت ضروری ہے۔ بین الاقوامی میچز صرف کھیل تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان مثبت رابطے اور عوامی سطح پر بھائی چارے کو فروغ دینے کا ذریعہ بھی ہیں۔ ایسے اقدامات جو اس فضا کو متاثر کریں، انہیں عموماً کھیل کی روح کے منافی قرار دیا جاتا ہے۔
یہ معاملہ عالمی کرکٹ حلقوں میں بحث کا باعث بنا ہے اور کھیل میں اخلاقی رویے کے ساتھ سیاسی دباؤ کے توازن پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
