نیوزی لینڈ کے Whakatāne میں واقع ایک اسکول گزشتہ ایک سال سے ایک عجیب و غریب مسئلے کا شکار تھا۔ اسکول سے تولیے، جوتے، لباس اور سوئمنگ کاسٹیومز غائب ہو رہے تھے، اور انتظامیہ یہ نہیں جان پا رہی تھی کہ یہ سب کس کی کارروائی ہے۔
پراسرار چوری کی تحقیقات
اسکول کی پرنسپل مراما اسٹیورٹ کے مطابق، غائب ہونے والی اشیا خاص طور پر سوئمنگ پول کے استعمال کے بعد گم ہو جاتی تھیں۔ ابتدائی طور پر اسکول کے عملے نے یہ سمجھا کہ اشیا کہیں غلط جگہ رکھی گئی ہیں، لیکن جب یہ مسئلہ بار بار پیش آیا تو انہوں نے سکیورٹی کیمروں کی مدد لی۔
کیمروں میں چور کی پہچان
کیمروں کی ریکارڈنگ سے ایک حیرت انگیز منظر سامنے آیا: اسکول کا ‘چور’ کوئی انسان نہیں بلکہ ایک سیاہ رنگ کی بلی تھی۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بلی ایک بڑے تولیے کو کھیل کے میدان میں گھسیٹ رہی ہے۔ اس کی وجہ سے اسکول کے عملے کو آخرکار یہ راز معلوم ہوا کہ ان کی اشیا دراصل اس بلی کی چوری ہیں۔
بلی کے مالک سے رابطہ
بعد میں اسکول کے عملے نے بلی کے مالک سے رابطہ کیا، جس نے تصدیق کی کہ ان کی پالتو بلی واقعی اسکول سے چیزیں چرا لیتی ہے۔ پرنسپل مراما اسٹیورٹ نے بتایا کہ اس واقعے سے بچوں کو بھی سبق ملے گا کہ اپنی چیزوں کو ہمیشہ محفوظ رکھیں اور انہیں چھوڑ کر نہ جائیں۔
سبق آموز پہلو اور مزاحیہ کہانیاں
مراما اسٹیورٹ نے کہا کہ "میرے خیال میں ہم اپنے اسکول میں اس بلی کے بارے میں کافی پرمزاح کہانیاں تحریر کرسکتے ہیں۔ یہ نہ صرف بچوں کے لیے دلچسپ ہوگا بلکہ انہیں اپنی چیزوں کے تحفظ کی اہمیت بھی سمجھ آئے گی۔”
یہ واقعہ اسکول کمیونٹی کے لیے دلچسپی اور حیرت کا باعث بنا اور اس نے یہ ظاہر کیا کہ کبھی کبھی سب سے چھوٹے ‘چور’ بھی سب سے زیادہ غیر متوقع ہوسکتے ہیں۔ اسکول کی جانب سے سوشل میڈیا پر ویڈیو شیئر کی گئی، جس نے نہ صرف مقامی لوگوں بلکہ دنیا بھر کے صارفین میں بھی ہنسی اور دلچسپی پیدا کی۔
