بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے متعلقہ حکام کو دو روز کی مہلت دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر طبی اقدامات کیے جائیں اور آنکھوں کے مسئلے کا مکمل علاج کرایا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عبدالغفور انجم کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ معاملے کی سنگینی کو سمجھیں اور فوری علاج کو یقینی بنائیں۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ انہوں نے وکیل سلمان صفدر سے عمران خان کی صحت کے بارے میں دریافت کیا تو صورتحال سن کر شدید تشویش ہوئی۔ ان کے بقول، ڈھائی سال سے قید ایک شخص کے ساتھ مناسب رویہ اختیار نہیں کیا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ تین ماہ سے آنکھ میں تکلیف کی شکایت کی جا رہی تھی، لیکن سنجیدہ توجہ نہیں دی گئی۔
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان بارہا یہ کہتے رہے کہ انہیں واضح نظر نہیں آرہا، مگر جیل انتظامیہ نے اس مسئلے کو نظرانداز کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جیل میں کیمروں کے ذریعے ہر سرگرمی کی نگرانی ہوتی ہے، اس لیے لاعلمی کا عذر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق دو ہفتوں سے صورتحال مزید خراب تھی اور اب بینائی شدید متاثر ہو چکی ہے۔
سپریم کورٹ میں جمع رپورٹ: عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی 15 فیصد رہ جانے کا دعویٰ
انہوں نے کہا کہ عمران خان کا علاج ان کے ذاتی معالج کی موجودگی میں ہونا چاہیے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر عدالتی نظام آزاد ہوتا تو عمران خان جیل میں نہ ہوتے۔
دوسری جانب سلمان اکرم راجہ نے الزام عائد کیا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق آنکھ کے مسئلے پر صرف عام ڈراپس دیے گئے اور مکمل طبی معائنہ نہیں کرایا گیا، جس کے باعث بینائی متاثر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ دار افراد کے خلاف مقدمہ چلایا جانا چاہیے اور بانی پی ٹی آئی کو فوری اور مؤثر طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
